Brailvi Books

منتخب حدیثیں
67 - 243
	واللہ ! اگر آپ میں  ذرا بھی انصاف کا مادہ  ہوگاتو آپ یہی کہیں  گے کہ واقعی اس حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ            ’’حضور اور جبریل دونوں کو قیامت کا علم ہے۔‘‘
         افسوس ! ان لوگوں کو اتنا بھی علم نہیں  کہ حضور کے قول ’’مَا الْمَسْؤلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ‘‘ میں  ’’ اَعْلَمُ‘‘اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اسم تفضیل کی نفی سے بالکل ہی فعل کی نفی لازم نہیں  ہے، اگر آپ یہ کہیں  کہ زید عَمْرو سے زیادہ حسین نہیں  ہے۔ تو اس سے کب یہ لازم آتا ہے کہ زید میں  بالکل ہی حُسن نہیں  ہے ظاہر ہے کہ ’’بالکل ہی حسن والا نہ ہونا‘‘یہ اور بات ہے اور’’زیادہ حسن والا نہ ہونا ‘‘یہ اوربات ہے۔
	بَہَرکَیْف اس حدیث سے ہرگز ہرگزیہ ثابت نہیں  ہوتا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو قیامت کا بالکل ہی علم نہیں  تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث سے حضور اور حضرت جبریل دونوں کے لئے قیامت کا علم ہونا ثابت ہوتا ہے۔
	چنانچہ علامہ شیخ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  نے سورۂ احزاب کی آیت یَسْئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللّٰہِ(1)کی تفسیر میں  تحریر فرمایا: فَلَمْ یَخْرُجْ نَبِیُّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْیَا حَتَّی اطَّلَعَہُ اللّٰہُ عَلٰی جَمِیْعِ الْمُغِیْبَاتِ وَمِنْ جُمْلَتِہَا السَّاعَۃُ لٰکِنْ اَمَرَ بِکَتْمِ ذٰلِکَ۔(2)(صاوی ،ج۳،ص۲۸۹)
	یعنی حضور علیہ الصلوۃ والسلام دنیا سے اس وقت تک تشریف نہیں  لے گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپکوتمام غیوب کے علوم پر مُطَّلع فرمادیا اور انہیں  میں  سے ’’قیامت‘‘ کا علم بھی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کویہ حکم دے دیا تھاکہ’’قیامت کب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:لوگ تم سے قیامت کو پوچھتے ہیںتم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ (پ۲۲،الاحزاب:۶۳) 
2…حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین،سورۃ الاحزاب،تحت الآیۃ: ۶۳،ج۵، ص۱۶۵۸