قیامت کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے تو اس مفہوم و معنی کو ادا کرنے کے لئے بہت سے الفاظ ہو سکتے تھے ۔مثلًا : ’’لَا اَعْلَمُھَا‘‘میں اس کو نہیں جانتایا’’لَسْتُ بِعَالِمِھَا‘‘میں اس کا جاننے والا نہیں ہوں یا ’’مَا لِیْ بِذَالِکَ مِنْ عِلْمٍ‘‘مجھے اس چیز کا کوئی علم نہیں ۔ یا’’لَیْسَ عِلْمُھَا عِنْدِیْ‘‘ میرے پاس اس کا علم نہیں ہے یا ان کے ہم معنی کوئی دوسرا جملہ حضور ارشاد فرمادیتے مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان جملوں میں سے کوئی یا اس قسم کا کوئی جملہ ارشاد نہیں فرمایابلکہ سائل کے جواب میں یہ فرمایاکہ’’مَا الْمَسْؤلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ‘‘ یعنی جس سے قیامت کے بارے میں سوال کیا جارہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔
اس عبارت کا کھلا ہوااور صاف صاف مطلب یہی ہوا کہ اے جبریل ! میں قیامت کے بارے میں تم سے زیادہ نہیں جانتا۔
عالم تو خیر عالم ہے کسی عربی خواں طالب علم سے بھی اگر آپ اس جملہ کا ترجمہ کرائیں گے تو یقینا وہ بھی یہی ترجمہ کرے گاجو میں نے لکھا ۔اب آپ ٹھنڈے دل سے غور کیجئے اور ایمان سے کہیے کہ حضور کے ارشاد:’’میں جبریل سے زیادہ قیامت کو نہیں جانتا‘‘ اس کا کیا مطلب ہوا !یہ مطلب ہوا کہ’’ قیامت کے بارے میں مجھ کواور جبریل دونوں کو علم ہے اور میرا علم اس معاملہ میں جبریل سے زیادہ نہیں ‘‘یا یہ مطلب ہوا کہ ’’میں اور جبریل قیامت کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ۔‘‘
اب آپ انصاف کیجئے کہ اس حدیث سے کیا ثابت ہوتا ہے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور جبریل علیہ السلام دونوں کو قیامت کے بارے میں علم ہے یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور جبریل علیہ السلام دونوں کو قیامت کا علم نہیں ہے۔