Brailvi Books

منتخب حدیثیں
65 - 243
	حکومت کی کرسیوں پر براجمان ہونے والے ان نااہلوں کو دیکھ کر مجھے اکثر یہ حدیث یاد آجاتی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  سے ایک صحابی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قیامت کب آئے گی ؟تو حضور نے فرمایا کہ جب امانت ضائع کی جانے لگے تو تم قیامت کا انتظار کرو ،صحابی نے دریافت کیا کہ امانت سے کیا مراد ہے ؟اور اس کی بربادی کیسے ہوگی؟تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ ’’اِذَاوُسِّدَ الْاَمْرُ اِلٰی غَیْرِ اَھْلِہٖ‘‘یعنی جب حکومت اور عہدے نااہلوں کے سپرد ہونے لگیں  تو تم قیامت کا انتظار کرو ۔ (1)
قیامت کا علم: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے علم غیب کا انکار کرنے والے اس حدیث سے بڑے طَنْطنے کے ساتھ دلیل لاتے ہیں  کہ دیکھ لو حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  سے قیامت کا وقت دریافت کیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے یہ جواب دیا کہ ’’میں  سائل سے زیادہ نہیں  جانتا‘‘ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے سورۂ لقمان کی آیت تلاوت فرما کر صاف طور سے بتادیا کہ پانچ چیزوں کا علم خدا کی ذات کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے۔
	خدا گواہ ہے کہ مجھے ان فاضلوں کے اس استدلال کو سن کر انتہائی تعجب ہوتا ہے۔ اللہ اکبر !کتنا بڑا ستم ہے کہ جس حدیث سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے قیامت کا علم ثابت ہوتا ہے اسی حدیث کو یہ لوگ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے علم قیامت کی نفی پر بطورِ دلیل کے پیش کرتے ہیں ۔
	سیدھی سی بات ہے کہ اگر واقعی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہی بتانا تھا کہ مجھے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من سئل علماً۔۔۔الخ،الحدیث۵۹،ج۱،ص۳۶ملخصاً