اس حدیث میں قیامت کی صرف دو نشانیوں کا ذکر ہے :
اول: لونڈی اپنے آقا کو جنے گی ۔
دوم :اونٹوں کے سیا ہ فام چرواہے اونچے اونچے محلوں میں فخر کریں گے۔
قیامت کی یہ دو نشانیاں اُن نشانیوں میں سے ہیں جو اس زمانے میں ظاہر ہوچکی ہیں اور جن کو ہر شخص آج اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے ۔پہلی نشانی کہ’’ لونڈی اپنے آقا کو جنے گی‘‘شارحین ِحدیث نے اس کے بہت معانی بیان فرمائیے ہیں مگر فقیر راقم الحروف کے نزدیک اس حدیث کا سب سے زیادہ راجح اور واضح مطلب یہی ہے کہ اولاد نافرمان پیدا ہونے لگے گی یعنی لڑکے اپنی ماؤں کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے جیسا سلوک مولیٰ اپنی لونڈی کے ساتھ کیا کرتا ہے توگویا ماں نے اپنے لڑکے کو نہیں جنا بلکہ اس کے پیٹ سے اس کا مولیٰ پیدا ہوا چنانچہ آج کل کی اولاد ماں باپ کے ساتھ جوسلوک کرتی ہے وہ بالکل ظاہرہے۔
دوسری نشانی کہ’’سیا ہ فام اونٹوں کے چرواہے محلوں میں فخر کریں گے‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیر و ذلیل پست اقوام کے لوگ جن کو کبھی پھونس کی چھپَّر بھی میسر نہیں تھی وہ اونچی اونچی کوٹھیوں اور شاندار بنگلوں میں فخر کریں گے۔
یہ منظر آپ عرب میں بھی دیکھیں گے کہ کالے کالے تکرونی عرب بدوی جو اونٹوں کے چرواہے تھے آج اپنی اپنی کوٹھیوںمیں کس ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ متکبرانہ زندگی بسر کر تے ہیں اور اپنے ملک میں بھی چرواہے بلکہ ان سے بھی کہیں بدتر لوگ آج اپنے اپنے بنگلوں میں فرعون بنے بیٹھے ہیں اور صورت ایسی ہے جیسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ابھی ابھی کوئلو ں کی بوری ،ڈامر کے پیپے میں سے نکلے ہیں ۔