Brailvi Books

منتخب حدیثیں
63 - 243
 وقت بندہ اس طرح حضورِ قلب اور اخلاصِ دل کے ساتھ عمل میں  مشغول ہو کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے اس تصور سے عمل کرنے والے بندے کے دل میں  خوف و خشیت ربانی اور امید و رجاء رحمانی کا ایسا نور پیدا ہوجائے گا کہ اس کا عمل انوار مقبولیت کی روشنی سے پُر نوراور بندہ سراپا نور بلکہ نور علیٰ نور ہوجائے گااور رحمتِ کردگار و فضل ِپروردگار کا دونوں جہان میں  مستحق و حق دار بن جائے گا۔
قیامت کی نشانیاں : قیامت کی بہت سی نشانیاں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  بیان فرما چکے ہیں جو سینکڑوں کی تعداد میں  ہیں  اور حدیثوں میں  ان کا مُفَصَّل ذکر ہے، جن میں  سے بہت سی نشانیاں ظاہر بھی ہو چکی ہیں اور جو باقی ہیں  وہ بھی یقیناًظاہر ہو کر رہیں  گی۔مثلًا  {۱} دجال کا فتنہ{۲} امام مہدی کا ظہور {۳} حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمان سے اترنا{۴}یاجوج ماجوج کا نکلنا{۵}دا بَّۃُ الارض کا خُروج{۶} حضرت عیسٰی علیہ السلام کی وفات کے کچھ دنوں کے بعد جب قیامت کے آنے میں  صرف چالیس برس رہ جائیں   گے تو ایک خوشبو دار ٹھنڈی ہوا چلے گی اور وہ لوگوں کی بغلوں کے نیچے سے گزرے گی، اس ہوا کے لگتے ہی تمام ایمان والوں کی وفات ہو جائے گی اور روئے زمین پر صرف کفار ہی کفار رہ جائیں   گے اورانہی اَشرار پرقیامت قائم ہوگی وغیرہ وغیرہ یہ سب قیامت کی وہ نشانیاں ہیں  جو ابھی تک ظاہر نہیں  ہوئی ہیں مگر ان سب کا ظہور اتنا ہی یقینی ہے جتنا کہ رات کے بعد دن کا آنا یقینی ہے ۔کیونکہ حضورمُخْبِرصادق صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے ان سب علامات قیامت کے ظاہر ہونے کی خبر دی ہے کیوں اس لئے  کہ    ؎
ہزار فلسفیوں کی چناں چنیں  بدلی 	نبی کی بات بدلنی نہ تھی نہیں  بدلی