کہ نماز چھوڑنے والے کو بادشاہ اسلام قید کردے یہاں تک کہ وہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے اور حضرت امام مالک اور امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا فتویٰ ہے کہ تارکِ نماز کو بادشاہ ِاسلام قتل کرادے۔
زکوۃ و روزہ: ۲ھ میں مدینہ منورہ کے اندر ان دونوں کی فرضیت کا حکم نازل ہوا ۔نماز کی طرح زکوۃ و روزہ کا انکار کرنے والا بھی کافر ہے اور ان دونوں کو ترک کرنے والا فاسق اور قتل کا مستحق ہے اور زکوۃ اداکرنے میں دیر لگانے والا گنہگار اور مَردودُ ا لشَّہادۃ ہے ۔
حج: ۹ھ میں حج فرض ہوا ۔صاحب ِ استطاعت پر عمر بھر میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے نماز اور روزہ و زکوۃ کی طرح حج کی فرضیت بھی قطعی و یقینی ہے لہٰذا جو حج کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور باوجود طاقت کے اس کا تارک فاسق ہے اور بِلاعُذْر حج میں تاخیر کرنے والا گناہگار اور مَردودُ ا لشَّہادۃ ہے۔
احسان کی حقیقت:لغت میں احسان کے معنی ’’اچھائی ‘‘ہیں ،چنانچہ اچھا کام احسان کہلاتا ہے اور کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو بھی احسان کہا جاتا ہے اور قرآن و حدیث میں لفظ احسان اس معنی میں بکثرت استعمال بھی ہواہے مگر اس حدیث میں جو ’’احسان ‘‘آیا ہے یہ احسان در حقیقت ایمان و اسلام کی طرح دین کا ایک اصطلاحی لفظ ہے جس کے معنی کوخود حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان نبوت سے ارشاد فرمایاکہ
’’خدا کی عبادت اس طرح کی جائے کہ گویا عبادت کرنے والا خدا کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
اس معنی میں احسان کا تعلق صرف نماز و روزہ اور زکوۃ و حج ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مومن کے ہر عمل میں اس کی روح کارفرما ہونی چاہئے یعنی ہر عمل کے