لِقاءِ الٰہی پر ایمان : خدا کی ملاقات پر ایمان کا یہ مطلب ہے کہ مرنے کے بعد حشر و نشر اور قیامت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری اور اپنے اعمال کی پیشی اور جواب دہی اور جنت و دوزخ وغیرہ پر دل سے اعتقاد رکھنا ۔
رسولو ں پر ایمان : رسولوں پر اس طرح ایمان لانا ضروری ہے کہ جتنے انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام دنیا میں تشریف لائے وہ سب اللہ کے مقدس بندے اور اس کے برگزیدہ پیغمبر ہیں وہ سب سچے اور وہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے وہ سب حق ہے اور ان سب نبیوں اور رسولوں نے اپنے فرائض نبوت کو کماحقہ ادا فرمایا ۔
نوٹ: واضح رہے کہ کسی نبی یا رسول کا انکار کرنایا کسی نبی و رسول کی ادنیٰ سی توہین و تَنْقِیْص یا ان کی شان میں گستاخی و بے ادبی یا ان کی کتابوں کا انکار یا ان کی شریعتوں کے کسی ایک حکم کا انکار یا ان کی کسی ایک سنت کی تَحْقِیر کرنا کفر ہے ۔اسی طرح غیر نبی کو نبی ماننا بھی کفر ہے ۔حضرت آدم علیہ السلام سے حضورخاتم النبیینصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تک ہر نبی و رسول کی تعظیم و تکریم فرض عین اور واجبُ الایمان ہے بلکہ تمام فرائض کی اصل اور جان ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں خاتم النبیین ہونے کا عقیدہ بھی ضروریات ایمان میں سے ہے ۔جو حضور خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی کا وُجود مانے یا کسی نبی کا آنا جائز و ممکن ٹھہرائے وہ کافر ہے۔
اسلا م کے معنی:اسلام کے معنی لغت میں ’’فرماں بردار ہوجانا‘‘ ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین ِبرحق کو اسلام اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جو اس دین کو قبول کرتا ہے وہ اپنے کو بالکل اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بنالیتا ہے چنانچہ اس حدیث میں جن اعمالِ اسلام کا ذکرہے، یعنی عبادت، نماز، زکوٰۃ ،روزہ اور مُفَصَّل حدیث میں کلمہ شہادت