اللہ پر ایمان:اللہ پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو موجود،واجب ا لوُجود، واحد حقیقی،وحدہٗ لاشریک لہٗ، خالق ِکائنات مانتے ہوئے اس کی تمام صفات مثلًا حیات، علم،قدرت،ارادہ،کلام،سمع،بصر،تکوین کوصدق دل سے مان کر اس پر یقین کامل رکھا جائے اور اس کو ہر عیب و نقص سے پاک مانتے ہوئے اس کو ہر صفت کمال کے ساتھ مانا جائے ۔hashia file 8
فرشتوں پر ایمان:فرشتوں پر ایمان لانے سے یہ مراد ہے کہ صدق دل سے یہ مان لیا جائے کہ فرشتے اللہ کی ایک نوری مخلوق اور اس کے محترم بندے ہیں جن میں گناہوں کا مادہ ہی نہیں ۔ وہ ہر چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم اور پاک ہیں ، نہ وہ عورت ہیں نہ مرد، نہ وہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں ،بس خدا کی بندگی ان کی زندگی ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی یہ صفت بیان فرمائیی ہے کہ
لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ (1) (o)
یعنی وہ کبھی بھی اور کسی کام میں بھی اور کسی حال میں اللہ کی کوئی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ خداوند تعالیٰ جو کچھ انہیں حکم دیتا ہے وہی کرتے ہیں
کوئی وحی لاتا ہے،کوئی پانی برساتا ہے،کوئی انسانوں کے اعمال کی نگہبانی اوران کی حفاظت کرتا ہے، کوئی مومنین کے لئے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتا ہے۔ غرض جس کو خدا نے جس کام میں لگادیا وہی کرتا ہے اور سب خدا کی عبادت واطاعت میں مصروف عمل ہیں ۔واضح رہے کہ فرشتوں کے وجود کا انکار کرنا یا ان پر کوئی عیب لگانا یا ان کی توہین کرنا کفر ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں۔ (پ۲۸،التحریم:۶)