Brailvi Books

منتخب حدیثیں
58 - 243
اِنَّ اللہَ عِنۡدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیۡثَ ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا ؕ وَمَا تَدْرِیۡ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوۡتُ ؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿٪۳۴﴾ o (1)
یعنی اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور  وہی بارش اتارتا ہے اور وہی بچہ دانیوں میں  جو کچھ ہے اس کو جانتا ہے اور کوئی نہیں  جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں  جانتا کہ وہ کس زمین میں  مرے گابیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا اور خبر دینے والاہے۔
        	 اس کے بعد حضرت جبریل مجلس سے اٹھ کر چلے گئے ۔پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حکم دیا کہ اس آدمی کو واپس بلاکر لاؤ، مگر جب صحابہ اس کی تلاش میں  نکلے تو انہیں  دور دور تک کوئی آدمی نظر نہیں  آیا ۔اس کے بعد حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے صحابہ سے فرمایا کہ یہ آدمی حضرت جبریل علیہ السلام تھے اس لئے آئے تھے کہ تم کو تمہارے دین کی باتیں  تعلیم فرمائییں  ۔
	حدیث ِمذکور میں  خاص طور پر چار چیزوں کا ذکر ہے:ایمان،اسلام، احسان، قیامت۔اب ان چاروں کے بارے میں  ہم کچھ تفصیل کے ساتھ عرض کرتے ہیں  :
ایمان:ایمان کے معنی تصدیق کرنایعنی سچے دل سے مان لیناہے ۔اس حدیث میں  پانچ چیزوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے: {۱} اللہ پر {۲} فرشتوں پر {۳} اللہ کی ملاقات پر{۴}رسولوں پر{۵} موت کے بعداٹھنے پر۔
	اب ذرا اِن پانچوں کی تفصیل ملاحظہ فرمائییے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز الایمان:بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں 
        کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین 
        میں مرے گی، بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے۔ (پ۲۱،لقمٰن:۳۴)