اس کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام نے دوسرا سوال کیا کہ اسلام کیا ہے ؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور شرک نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دیتے رہو اور رمضان کا روزہ رکھو۔
پھر حضرت جبریل علیہ السلا م نے تیسرا سوال کیا کہ احسان کیا ہے ؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ جواب دیا کہ عبادت میں احسان یعنی اچھائی یہ ہے کہ تم خدا عزوجل کی عبادت اس طرح توجہ اوراخلاص کے ساتھ کرو کہ گویا تم خدا عزوجل کو دیکھ رہے ہو اور اگر اتنی توجہ اور حضور قلب تم کو حاصل نہ ہوسکے تو کم سے کم یہی دِھیان رکھو کہ خدا عزوجل تم کو دیکھ رہا ہے ۔
پھر حضرت جبریل علیہ السلام نے چوتھا سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں یہ فرمایا کہ اس بات کو میں تم سے زیادہ نہیں جانتابلکہ اس کے بارے میں جتنا تم کو علم ہے اتنا ہی مجھ کو بھی علم ہے ۔
پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبریل کے سامنے قیامت کی نشانیوں میں سے دو نشانیوں کا ذکر فرمایا۔ اوّل یہ کہ لونڈی اپنے مولیٰ کو جنے گی ،دوم یہ کہ کالے کلوٹے اونٹوں کے چرواہے اونچی اونچی بلڈنگوں اور محلوں میں فخر و تکبر کریں گے پھر آپ نے فرمایا کہ قیامت کا علم ان پانچ علموں میں سے ہے جن کو خدا کے سوا کوئی شخص اپنی عقل و دِرایت یا فہم و فِراست سے نہیں جان سکتا۔ (ہاں اگر خدا کسی کو بتادے تو وہ خدا کے بتانے سے ضرور جان لے گا)
پھر بطورِ ثُبوت کے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ لقمان کی آخری آیت تلاوت فرمائیی کہ