سمجھنا یا خدا کی صفاتِ خاصَّہ میں کسی کو شریک ٹھہرانا۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سِرُّہ نے اشعۃ اللمعات ،ج۱، ص۶۱ پر تحریر فرمایا کہ شرک تین طرح کا ہوتا ہے:
ایک یہ کہ اللہ عزوجل کی طرح کسی کو واجب الوجود مانے،
دوسرے یہ کہ اللہ عزوجل کے سوا کسی کو خالق مانے،
تیسرے یہ کہ اللہ عزوجل کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرے۔ (1)
(تعظیم وعبادت اور شرک کی مزید تفصیل ہماری کتاب ’’عرفانی تقریریں ‘‘ میں پڑھ لیجئے)
شرحِ حدیث: یہ مختصر حدیث ہے، یہی حدیث دوسری سندوں کے ساتھ مُفَصَّل بھی آئی ہے جن میں آسمانی کتابوں ،تقدیر،نیزحج کا بھی ذکر آیا ہے۔ بہر حال اس حدیث میں جن چیزوں کا ذکر آیا ہے ہم ان پر قدرے تفصیل کے ساتھ کچھ روشنی ڈالتے ہیں ۔
حدیث کا مطلب بالکل واضح اور ظاہر ہے کہ ایک دن حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے ملاقات کی غرض سے بجائے مکان کے میدان کی کھلی فضا میں تشریف فرما تھے یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا دربار عام تھا اور صحابہ بارگاہ ِ رسالت میں حاضر تھے کہ اتنے میں حضرت جبریل علیہ السلام ایک آدمی کی شکل وصورت میں رونق افروز ہوگئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ ایمان کیا چیز ہے ؟تو حضور نے جواب میں ارشادفرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں کو صدق دل سے مان لو اور مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت قائم ہونے پر بھی سچے دل سے یقین رکھو ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان،باب الکبائروعلامات النفاق،الفصل الاوّل،ج۱،ص۷۸