عبادت:پَرَسْتِش کرنا ، پوجنا یعنی انسان کسی کو اپنا خدا مان کر اس کی انتہائی تعظیم کرے اور اس کے سامنے اپنے کو انتہائی ذلت اور پستی میں سمجھے اور اس کے حضور اس قدر ذلیل اور پست بن جائے کہ جس کے بعد ذلت اور پستی کا کوئی درجہ ہی نہ ہو۔
واضح رہے کہ عبادت کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ جس کی عبادت کی جائے اس کے معبود (خدا) ہونے کا اعتقاد بھی ہو ۔ عبادت کرنے والے کو ’’عابد‘‘اور جس کی عبادت کی جائے اس کو ’’معبود‘‘کہتے ہیں ۔
تعظیم و عبادت میں فرق:تعظیم و عبادت میں یہی فرق ہے کہ ’’عبادت ‘‘میں تعظیم کے ساتھ اس ذات کی اُلوہِیَّت اور واجبُ الوجود اور مستحقِ عبادت ہونے کا اعتقاد بھی ہو اور تعظیم میں یہ اعتقاد نہیں ہوتا ۔لہٰذا خوب اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ ہرعبادت تعظیم ہے مگرہر تعظیم عبادت نہیں ہے اور غیر اللہ کی عبادت تو شرک ہے مگر غیر اللہ کی تعظیم ہرگز ہرگز شرک نہیں بلکہ بعض غیر اللہ کی تعظیم تو فرضِ عین ہے ۔جیسے کعبہ معظمہ اور حضرات انبیاء علیہم السلام وغیرہ یہ سب غیر اللہ ہیں بلاشبہ ان کی عبادت کرنا تو کھلا ہوا شرک ہے مگر ان کی تعظیم لازمُ الایمان اورفرضِ عین ہے ۔
جو لو گ عبادت اور تعظیم کے اس فرق سے ناواقف ہیں وہ کسی غیر اللہ کی تعظیم کرتے ہوئے دیکھ کر جھٹ ’’شرک‘‘کا فتویٰ لگادیتے ہیں ۔ہمیشہ یاد رکھئے کہ غیر اللہ کی تعظیم شرک اور عبادت اسی وقت قرار دی جائے گی جب کسی کو خدا سمجھ کر اس کی تعظیم کی جائے۔ اس کے علاوہ غیر اللہ کی تعظیم کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ کوئی بھی ہرگز ہرگز ’’شرک‘‘ نہیں کہی جاسکتی ہیں ۔
شرک:شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو خدا ماننا یاعبادت کے لائق