لفظوں کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اسی طرح امام ترمذی وامام احمد وغیرہ محدثین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں اس حدیث کو درج فرمایا ہے ۔ امام بغوی نے اپنی دونوں کتابوں ’’مصابیح‘‘ اور’’شرح ُالسُّنَّۃ‘‘ کا آغاز اسی مضمون کی حدیث سے کیاہے اور حضرت علامہ قاضی عیاض علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث تمام وظائف اور ظاہری وباطنی عبادتوں کی جامع ہے۔ (1) (فیوض الباری، ج۱،ص۱۸۷)
{۲} حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا کہ اس حدیث کو علماء محدثین ’’حدیث ِجبریل‘‘یا’’حدیث ِاُمُّ الاحادیث‘‘یا ’’اُمُّ الجَوامع‘‘ کہتے ہیں ۔ اس کا نام ’’حدیث ِ جبریل‘‘ اس لئے ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک آدمی کی شکل میں آکر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال و جواب کیا اور اس کا لقب ’’اُمّ الاحادیث‘‘ اس طرح ہوگیا کہ جس طرح قرآن کی سورۂ فاتحہ کا نام’’ام القرآن‘‘ رکھ دیا گیا۔ ’’امّ‘‘ اصل اور جڑ کوکہتے ہیں ، جس طرح سورۂ فاتحہ اجمالی طور پر تمام قرآنی مضامین کی جامع اور جڑ ہونے کی و جہ سے ’’اُمُّ القرآن ‘‘ یعنی قرآن کی اصل اور جڑ کہلاتی ہے اسی طرح یہ حدیث چونکہ تمام احادیث ِ نبویہ کے مضامین کو اجمالی طور پر اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اس لئے یہ ’’امّ الاحادیث ‘‘ یا ’’امّ الجوامع‘‘ کہلاتی ہے۔ یعنی یہ تمام حدیثوں کی اصل اور جڑ ہے ۔(2)
توضیح الفاظ: اس حدیث میں مندرجہ ذیل دو الفاظ کی توضیح و تشریح بہت اہم اور ضروری ہے جو حسب ِ ذیل ہے :
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیوض الباری،پا رہ اوّل،کتاب الایمان، باب سؤال جبریل النبی۔۔۔الخ،ج۱،ص۲۵۸ملخصاً
2…اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان،الفصل الاوّل،ج۱،ص۴۱ملخصاً