کے بعد آپ کا نام عبدالرحمن یا عبداللہ رکھا گیا ۔ ان کو بلّیوں سے بڑی محبت تھی ایک دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آستین میں ایک بلّی کو دیکھا تو ان کو یَا اَبَاہُرَیْرَۃَ (اے بلی کے باپ) کہہ کر پکارا ،اس دن سے آپ کا یہ لقب اس قدر مشہور ہوگیا کہ لوگ آپ کا اصلی نام ہی بھول گئے اسی لئے آپ کے نام میں بڑا اختلاف ہے ۔ آپ اصحابِ صُفَّہ میں سے ہیں ۔آپ نے ایک دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی کہ یارسول اللہ ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں آپ کی حدیثوں کو بھول جاتاہوں تو حضور نے حکم دیا کہ تم اپنی چادر کو زمین پر پھیلادو ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی چادر پھیلادی پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ حدیثیں بیان فرمائییں اور ان سے ارشاد فرمایاکہ اس چادر کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لو ۔ اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حافظہ اتنا قوی ہوگیا کہ جو کچھ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا اس کو عمر بھر فراموش نہیں کرسکے۔ آٹھ سو صحابہ اور تابعین حدیث میں آپ کے شاگرد ہیں ۔ آپ نے پانچ ہزار تین سو چوہتر حدیثیں روایت فرمائییں ہیں۔ جن میں سے چار سو چھیالیس حدیثیں بخاری شریف میں ہیں ۵۹ھ میں اٹھترسال کی عمر پاکر مدینہ منورہ میں وصال فرمایا اور جنت البقیع میں مَدْفون ہوئے ۔(1) (اکمال ،قسطلانی، ج ۱ ،ص ۱۲ ۲،عینی ،ج۱ ،ص ۱۲۶)
اس حدیث کی شان:{۱} اس حدیث کو امام بخاری علیہ الرحمۃ نے کتاب التفسیر اور کتاب الزکوٰۃ میں بھی ذکر کیا ہے اور امام مسلم اور امام نساء نے کتاب الایمان میں ، امام ابن ما جہ نے سنن و فتن میں ، امام ابوداؤد نے ’’سنت‘‘ میں متعدد سندوں اور مختلف
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال،حرف الھائ، فصل فی الصحابۃ، ص۶۲۲
وفیوض البا ری،پارہ اوّل،کتاب الایمان، باب امور الایمان،ج۱،ص۱۷۷