کرے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے جو فرض ہے اور رمضان کے روزے رکھے ۔ اس نے کہاکہ احسان کیا ہے ؟تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے پس اگر تو اس کو نہیں دیکھتاتو (اس طرح عبادت کرکہ ) وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ ہاں میں ابھی تجھ کو قیامت کی کچھ نشانیاں بتاتاہوں (جو یہ ہیں ) جبکہ باندی اپنے مولیٰ کو جنے گی اور اونٹوں کے چرواہے کالے کالے رنگ والے بڑی بڑی عمارتوں میں فخر و گھمنڈ کرنے لگیں گے۔ یہ (علم ِقیامت ) ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کوخدا کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ(1)کی آیت تلاوت فرمائی (جس میں قیامت وغیرہ پانچ چیزوں کا ذکر ہے ) پھر وہ (سائل) واپس چلا گیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو واپس بلالاؤ ۔ تو لوگوں کو کچھ نظر نہیں آیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ حضرت جبریل تھے جو لوگوں کو دین سکھانے کے لئے آئے تھے ۔
حضرت ابوہریرہ:اس حدیث کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ہی عبادت گزار ، انتہائی متواضع اور پرہیز گار صحابی ہیں ۔ ابو سعید کا بیان ہے کہ یہ روزانہ بارہ ہزار رکعت نماز نفل پڑھتے تھے ۔ آپ یمن کے قبیلہ دوس سے تعلق رکھتے تھے ۔ زمانۂ جاہلیت میں آپ کا نام ’’عبد شمس‘‘ تھا ۔ ۷ھ میں جنگ خیبر کے بعد مسلمان ہوئے ۔ اسلام لانے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم۔(پ۲۱،لقمٰن:۳۴)