ارکانِ اسلام
حدیث :۲
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰٰلِہٖ وَسَلَّمَ بَارِزًا یومًا لِلنَّاسِ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ:مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَبِلِقَائِہٖ وَرُسُلِہٖ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ قَالَ:مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ:اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکَ بِہٖ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤَدِّیَ الزَّکَاۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ قاَلَ: مَا الْاِحْسَانُ؟ قَالَ: اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ قَالَ: مَتٰی السَّاعَۃُ؟ قَالَ:مَا الْمَسْؤلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَسَاُخْبِرُکَ عَنْ اَشْرَاطِھَا اِذَا وَلَدَتِ الْاَمَۃُ رَبَّھَا وَاِذَا تَطَاوَلَ رُعَاۃُ الْاِبِلِ الْبُھْمُ فِی الْبُنْیَانِ فِیْ خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ تَلَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ اَلْاٰیَۃُ، ثُمَّ اَدْبَرَ فَقَالَ: رُدُّوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا فَقَالَ:ھٰذَا جِبْرِیْلُ جَائَ یُعَلِّمُ النَّاسَ دِیْنَھُمْ۔(1) (بخاری ،باب سوال جبریل الخ، ص ۱۲)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک دن حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے ملاقات کے لئے مکان سے باہر تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ ایمان کیا ہے ؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی ملاقات کو اور اس کے رسولوں کو اور موت کے بعد اُٹھنے کو تو دل سے مان لے ۔اس نے کہا: اسلام کیا ہے ؟ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب سؤال جبریل۔۔۔الخ،الحدیث:۵۰،ج۱،ص۳۱