{۳}اب رہا یہ سوال کہ وہ مخلوط عمل جس میں دین و دنیا کی دونوں غرضیں ملی جلی ہوں مثلاً ایک شخص حج کے لئے جاتا ہے اور کچھ تجارتی مَنْفَعَت کا پہلو بھی اس کے پیش نظر ہے تو اس صورت میں اس کو ثواب ملے گا یا نہیں ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ مخلوط عمل کی چند صورتیں ہیں :
اگر عمل کا باعث ومحرک صرف مَنْفَعَتِدنیا ہے عبادت کرتا تو ہے مگر اس کو مقصود نہیں بناتا مثلا ً اس کے سفرِ مکہ ومدینہ کا اصل مقصد تجارت ہی ہے اور اس نے تجارت ہی کی نیت سے یہ سفر کیا ہے اس سفر کا باعث و محرک حج نہیں ہے مگر چونکہ حج کا موسم تھا اس لئے حج بھی کرلیا اوروہ بھی اس نیت سے کہ اگر حج نہیں کیا تو لوگ برا بھلا کہیں گے تو ظاہر ہے کہ اس حج پر کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا۔
اور اگر عمل کا محرک اور باعث عبادت اور نفعِ آخرت ہے مگر اسکے ساتھ تجارت وغیرہ دنیاوی مَنْفَعَتکا مقصد بھی ملاہوا ہے ۔ مثلاً سفر حرمین شریفین کا اصل مقصد توحج ہی کرنا ہے مگر یہ بھی خیال ہے کہ اگر کوئی حلال تجارت کا موقع مل گیا تو کچھ کاروبار اور بیوپار بھی کرلوں گا تو اس صورت میں جس قدر دنیاوی مَنْفَعَتکی نیت شامل ہوگی اسی نسبت سے ثواب میں کمی ہوجائے گی اور اگر عمل کا مقصد صرف رضائے الٰہی کی طلب اور خالص عبادت ہی کا جذبہ ہے اور بال برابر بھی دنیاوی مَنْفَعَتکا خیال نہیں ۔ مثلاً سفر مکہ و مدینہ میں صرف خالص حج و زیارت ہی کی نیت ہے ۔ تجارت یا دنیاوی مَنْفَعَت کا خیال تک نہیں آیاہے تو یقینا یہ اعلیٰ درجے کی عبادت اور اس حج و زیارت پر کامل درجے کا ثواب ملے گا۔