Brailvi Books

منتخب حدیثیں
49 - 243
	نصیحت کی پہلی دونوں صورتوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے اس لئے اختیار نہیں  فرمایا کہ پہلی صورت میں  ان کی بڑی بے آبروئی اور رسوائی ہوتی اور دوسری صورت میں  بھی ان کو انتہائی نَدامت و شرمندگی ہوتی اس لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے ان کی نصیحت و اصلاح کے لئے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ان کو تنبیہ فرمادی اور اس انداز میں  کہ ان کو ذلت و رسوائی سے بچاتے ہوئے اور ان کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان کی اصلاح وہدایت فرمائیی۔
      سبحان اللہ ! یہ ہے: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (1) کا جلوہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کو قرآن میں  یہ حکم دیا کہ اے محبوب آپ لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دیجئے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  کا یہی طریقۂ دعوت ’’حکمت‘‘ و ’’مَوعِظۂ حسنہ‘‘ ہے۔
{۲} حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے اس اسوۂ حسنہ سے پتہ چلا کہ کسی گناہگار مسلمان کو نصیحت کرنے میں  اس بات کا خاص طور پر لحاظ و خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس گناہگار مسلمان کی تَذلِیل وتَحْقِیر اور اس کی بے آبروئی و رسوائی نہ کی جائے نہ اس کو ایسے تلخ ودُرُشْت لہجے میں  ڈانٹ پھٹکار کر نصیحت کی جائے کہ اس غریب کو ندامت و شرمندگی سے عرق عرق ہوجانا پڑے ۔ 
	 جو علمائے کرام وعظ و تقریر میں  سخت کلامی یا تلخ وترش لہجہ یا دلخراش الفاظ استعمال کرنے کے عادی ہیں  ان کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے اس طریقۂ تبلیغ سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے اسوۂ حسنہ کو نمونۂ عمل بنانا چاہیے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنز الایمان:اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔(پ۱۴،النحل:۱۲۵)