Brailvi Books

منتخب حدیثیں
48 - 243
	علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں  فرمایا کہ فِیْہِ الْحَثُّ عَلٰی نِیَّۃِ الْخَیْرِ مُطْلَقًا وَاِنَّہُ یُثَابُ عَلَی النِّیَّۃِ یعنی اس حدیث میں  اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ ہر حالت میں  نیت اچھی ہونی چاہیے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیت پر ثواب دیا جاتاہے ۔ (1)(عینی، ج۱،ص۳۲۸)
فوائد ومسائل: اس حدیث سے مندرجہ ذیل فوائد و مسائل پر بھی روشنی پڑتی ہے جن کو ہم نمبر وار تحریر کرتے ہیں  :
{۱} آپ یہ پڑھ چکے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے ’’مہاجرام قیس‘‘ کی تَنْبِیْہ اور ہدایت کے لئے یہ حدیث ارشادفرمائیی جنہوں  نے ایک عورت سے نکاح کرنے کی نیت سے ہجرت کی تھی ۔ بلاشبہ وہ تَنْبِیْہ وہدایت کے قابل تھے ۔ اب اس تنبیہ و ہدایت کی ایک صورت تو یہ تھی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  ان کو سامنے بلا کر مجمع عام میں  ان کو ان کی غلطی پر ٹوکتے اورڈانتے ۔ دوسری صورت یہ تھی کہ ان کو تنہائی میں  بلا کر ان کی غلطی پر ان کو تَنْبِیْہ فرمادیتے ۔ تیسری صورت یہ تھی کہ مجمع عام میں  تمام مسلمانوں کو وعظ و نصیحت سنانے کے ضمن میں  ان کومُتَنَبِّہ فرمادیتے تاکہ ان کی پردہ پوشی کے ساتھ ان کو تَنْبِیْہ وہدایت ہوجاتی ۔ چنانچہ حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسی آخری صورت کو اختیار فرمایا کہ خطبہ پڑھتے پڑھتے عام الفاظ میں  اور عام مسلمانوں کو خطاب فرماتے ہوئے ان کو تنبیہ فرمادی اور’’مہاجرام قیس‘‘ جو اس خطبہ کو سن رہے تھے انہوں  نے خوب اچھی طرح سمجھ لیا کہ کسی عورت سے نکاح کرنے کی نیت سے ہجرت کرنے میں  کوئی اجر و ثواب نہیں  ہے، اس جملہ سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے مجھ کو تنبیہ فرمائیی ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…عمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب ماجاء ان الاعمال۔۔۔الخ، ج۱، ص۴۶۱