Brailvi Books

منتخب حدیثیں
47 - 243
  جن کو ہم نے دیکھ کر اور سن کر لکھا ہے ہم اس کو کیونکر پھینک دیں  ،تو خداوند ِ عالَم ارشاد فرماتا ہے کہ لَمْ یُرِدْ وَجْھِیْ اس بندے نے اس عمل میں  میری رِضا کی نیت نہیں  کی تھی اس لئے یہ میرے دربار میں  مقبول نہیں ۔
	پھر دوسرے فرشتہ کو اللہ تعالیٰ یہ حکم فرماتاہے کہ اُکْتُبْ لِفُلَانٍ کَذَا وَکَذَا یعنی فلاں بندے کے نامۂ اعمال میں  فلاں فلاں عمل لکھ دے ۔ فرشتہ عرض کرتا ہے کہ خداوند! یہ عمل تو اس بندے نے نہیں  کیا ہے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے کہ گو اس نے یہ عمل نہیں  کیا مگر اس کی نیت تو اس عمل کے کرنے کی تھی اس لئے میں  اس کی نیت پر اس کو اس عمل کا اجر دوں گا۔
	اسی لئے بعض حدیثوں میں  یہ بھی آیا ہے کہ نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہ یعنی مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ظاہر ہے کہ نیک عمل پر تو ثواب اسی وقت ملے گا جب نیت اچھی ہواور اگر نیت بری ہوتو نیک عمل پر کوئی ثواب ہی نہیں  ۔ مگر اچھی نیت پر تو بہرحال ثواب ملے گا خواہ عمل کرے یا نہ کرے اس لئے مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اسی لئے بعض صوفیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے فرمایا ہے کہ    ؎
ہر کرا اندر عمل اخلاص نیست		درجہاں از بندگانِ خاص نیست
	یعنی جس شخص کے عمل میں  اخلاص نہیں  ہے وہ دنیا میں  خدا کے خاص بندوں میں  سے نہیں  ہے    ؎
ہر کرا کار از برائے حق بود		کارِ او پیوستہ بارونق بود
      جس شخص کا عمل خدا کی رِضا کیلئے ہوتاہے ہمیشہ اس کا عمل بارونق رہا کرتاہے۔(1)(اشعۃ اللمعات، ج ۱، ص ۳۶)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اشعۃ اللمعات، خطبۂ کتاب، ج۱،ص۳۹