Brailvi Books

منتخب حدیثیں
46 - 243
 صدقہ دے دیا ۔ جب اس شخص کو خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ یا اللہ !تیرے ہی لئے حمد ہے (افسوس!) میرا صدقہ ایک چور کے ہاتھ میں  چلا گیا ۔پھر دوسری رات کو صدقہ لے کر چلا تو ایک زناکار عورت کو       محتاج سمجھ کر اس کے ہاتھ میں  صدقہ کا مال رکھ دیا صبح کو پھر لوگوں میں  اس کا چرچا ہونے لگا کہ رات میں  کسی نے ایک زنا کار عورت کو صدقہ دے دیا ۔ جب اس شخص کو پتہ چلا تو پھر اس نے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ ! تیرے ہی لئے حمد ہے (افسوس!) میں  نے ایک زنا کار عورت کو صدقہ دے دیا ۔ پھر تیسری رات یہ صدقہ لے کر نکلا تو ایک مالدار آدمی کو فقیر سمجھ کر اس کو صدقہ دے دیا ۔صبح کو پھر لوگوں نے اس کا تذکرہ اور اس پر تنقید و تبصرہ کرنا شروع کردیا تو اس نے یہی کہا کہ یااللہ ! تیرے ہی لئے حمد ہے (افسوس!) کہ میرا صدقہ چور، زانیہ اور مالدار کے ہاتھ میں  پہنچا۔ یہ شخص اسی افسوس وتَفکُّر میں  سوگیا  تو خواب میں  ایک فرشتہ نے خدا کی طرف سے اس کو یہ خوشخبری سنائی کہ تیرا ہرا ک صدقہ مقبول ہوا تونے چور کو صدقہ دیا تو امید ہے کہ وہ اس رات کو چوری سے بچے گا اور زانیہ کو صدقہ دیا تو امید ہے کہ وہ اس رات کو زناکاری سے بچے گی اور مالدار کو صدقہ دیا تو امید ہے کہ اس کو عبرت ہو اور وہ بھی صدقہ دینے لگے ۔(1) (مشکوٰۃ باب الانفاق)
فقط نیت پر ثواب : حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں  تحریر فرمایا ہے کہ بعض احادیث میں  آیا ہے کہ جب فرشتے بندوں کے نامہ اعمال کو آسمانوں پر لے کرجاتے ہیں  اور دربارِ الٰہی میں  پیش کرتے ہیں  تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلْقِ تِلْکَ الصَّحِیْفَۃَ اَلْقِ تِلْکَ الصَّحِیْفَۃَ  دو مرتبہ فرماتا ہے کہ اس نامۂ اعمال کو پھینک دو فرشتے عرض کرتے ہیں  کہ الٰہی !تیرے اس بندے نے نیک اعمال کیے ہیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃالمصابیح،کتاب الزکاۃ،باب الانفاق وکراھیۃ الامساک،الحدیث: ۱۸۷۶،     ج۱،ص۳۵۶