Brailvi Books

منتخب حدیثیں
45 - 243
 پڑھایا تھا کہ لوگ تجھ کو عالم کہیں  گے اورقرآن اس لئے پڑھا تھا کہ لوگ تجھ کو قاری کہیں  گے، تو لوگوں نے تجھ کو (دنیا میں  )عالم، قاری کہہ دیا (اور دنیا میں  تیرا اجر تجھ کو مل گیا)پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کو بھی منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے آگ میں  جھونک دیا جائے گا۔
	تیسرا شخص وہ  ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت وسیع روزی دی اورہر قسم کا مال و مَتاع عطا کیا، یہ لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیے گا کہ میں  نے یہ یہ نعمتیں  تجھ کو دیں  تھیں ؟ وہ ان نعمتوں کے ملنے کا اقرار کرے گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیے گا کہ تونے میری ان نعمتوں کا کون کو ن سے اعمال کرکے شکر یہ ادا کیا ؟ وہ کہے گا کہ میں  نے تیرے لئے ہر اُ س راہ میں  مال خرچ کیا جس کو تو پسند فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیے گا کہ تو جھوٹ بول رہا ہے تونے میری رِضا کے لئے مال نہیں  خرچ کیا بلکہ تونے اس لئے مال خرچ کیا تھا کہ لوگ تجھے سخی کہیں گے تو لوگوں نے تجھ کوسخی کہہ دیا (اور دنیا ہی میں  تیری نیت کا ثواب تجھ کو مل گیا) پھر وہ بھی خدا کے حکم سے منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے آگ میں  داخل کردیا جائے گا۔(1)  (مشکوٰۃ ،کتاب العلم و مسلم ،ج۲،ص۱۴۰) 
اچھی نیت کا ثمرہ: اب ایک حدیث اورمُلاحَظَہ فرمالیجئے اور اس حدیث کی روشنی میں  دیکھئے کہ اچھی نیت سے عمل کرنے والے کے اعمال کے ثمرات وبرکات کیا ہیں  اور اللہ تعالیٰ ان کو کیسے کیسے درجات عطافرماتاہے مشکوٰۃ شریف کی حدیث ہے کہ 
	ایک شخص نے عہد کیا کہ میں  چھپ کر صدقہ کروں گا۔ چنانچہ یہ شخص رات کو صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک چور کو مسکین سمجھ کر صدقہ کی رقم اس کے ہاتھ میں  رکھ دی۔ صبح کواس کا چرچا ہوگیااور لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ کسی نے رات میں  ایک چور کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح مسلم،کتاب الامارۃ،باب من قاتل للریاء والسمعۃ۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۹۰۵،  ص۱۰۵۵