بری نیت کا انجام: بہرحال اس حدیث کا حاصل یہی ہے کہ ایک ہی عمل اچھی نیت سے باعث ِ ثواب اور بری نیت سے لائقِ عذاب ہوجایا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نیت کی خرابی کی وجہ سے بہتر سے بہتر کام اور افضل سے افضل اعمالِ صالحہ کرنے والے قیامت کے دن منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے چنانچہ مسلم شریف کی ایک حدیث ہے جس کے تصور سے بدن کا ایک ایک رونگٹا کانپنے لگتا ہے ۔
رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ کیا جائے گا ان میں سے ایک شہید ہوگا، یہ لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیے گا کہ یہ یہ نعمتیں میں نے تجھے دی تھیں ؟ شہید اقرار کرے گا کہ بے شک تونے دی تھیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیے گا کہ تونے میری ان نعمتوں کے شکریہ میں کون کون سے اعمال کیے ہیں ؟ وہ کہے گا کہ میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ میں شہید کردیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیے گا تو جھوٹا ہے تونے میری رضا کے لئے جہاد نہیں کیا بلکہ تو اس نیت سے لڑا تھا کہ لوگ تجھ کو بہادرکہیں گے تو لوگوں نے (دنیا میں ) بہادر کہہ دیا (اورتجھے تیری نیت کا پھل مل گیا ) پھر اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں اپنا حکم صادِر فرمائیے گا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
دوسرا شخص ایک عالم ہوگا جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قرآن پڑھا ہوگا، یہ لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائیے گا کہ فُلاں فُلاں نعمتیں میں نے تجھ کو دی تھیں ؟ وہ کہے گا کہ بے شک تونے عطا فرمائیی تھیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیے گا کہ تونے میری ان نعمتوں کی شکرگزاری میں کیا کیا؟ وہ کہے گا کہ میں نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قرآن پڑھا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تونے تو علم اس لئے پڑھا