وقت دو نیت کرلی کہ تم اپنے ایک رشتہ دار کی بھی مدد کررہے ہو اور امّتِ رسول کے ایک محتاج کی مالی امداد بھی کررہے ہو تو چونکہ تمہاری اچھی اچھی نیتیں دو ہیں اس لئے تم کو دو ثواب ملے گا ایک ثواب اپنے رشتہ دار کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا اور ایک امّتِ رسول کے ایک مفلس کی امداد کرنے کا ۔
اسی طرح مسجد میں داخل ہونا ایک عمل ہے لیکن اگر کوئی شخص دخول مسجد کے وقت صرف ادائے نماز کی ایک ہی نیت کرے تو اس کو ایک ہی ثواب ملے گا اور اگر اس نے دُخولِ مسجد کے وقت ادائے نماز کے ساتھ یہ نیت بھی کرلی کہ میں مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعائیں بھی پڑھوں گا مسجد میں چند منٹ کا اعتکاف کروں گا، جماعت کا انتظارکروں گا، جتنی دیرمسجدمیں بیٹھارہوں گا دنیاوی خرافات سے بچا رہوں گا، مسجد کے نمازیوں میں سے جو صالحین ہیں ان سے ملاقات کروں گا، ان لوگوں کو سلام کروں گا، مسجد میں بیٹھ کر تلاوت کروںگا یا وظیفہ پڑھوںگا یا نمازیوں کو کوئی مسئلہ بتاؤں گا یا ان سے کوئی مسئلہ سیکھوں گا۔دیکھ لیجئے مسجد میں داخل ہونا ایک ہی عمل ہے مگر چونکہ یہ عمل چند نیتوں سے کیا گیا ہے اس لئے جتنی تعداد میں اچھی اچھی نیتیں ہوں گی اتنی ہی تعداد میں اس ایک عمل کا ثواب ملے گا۔ غرض ایک عمل پر اگر کوئی شخص پچاس نیتیں یا پانچ سو نیتیں یا پچاس ہزار نیتیں کرلے تو صرف ایک عمل پر خداوند کریم اپنے کرم بے حساب سے پچاس ہزار ثواب مرحمت فرمائیے گا ۔ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے ، اس کی رحمت کا اعلان ہے کہ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (o)(1) یعنی اللہ تعالیٰ کا فضل بہت ہی بڑا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (پ۱،البقرۃ:۱۰۵)