Brailvi Books

منتخب حدیثیں
42 - 243
ہے ؟مرید نے جواب دیا کہ میری نیت تو یہی تھی کہ روشندان کے ذریعے میرے گھر میں  روشنی آئے گی ۔ مرید کی زبان سے یہ سن کر پیر صاحب کو بڑا رنج وملال ہوا اور تڑپ کر فرمایاکہ 
گفت آں فرع است ایں  باید نیاز 	تا ازیں  رہ بشنوی بانگ نماز
نور خود اندر تبع می آیدت 		نیت آں کن کہ آں می بایدت
	یعنی پیر کامل نے فرمایاکہ اگر تونے روشندان بناتے وقت یہ نیت کرلی ہوتی کہ اس کے ذریعے اذان کی آواز تیرے گھر میں  آئے گی تور وشنی بھی آجاتی اور تجھ کو تیری اس نیک نیتی پر ثواب بھی ملتا۔ آئندہ سے یاد رکھ کہ نیت ایسی کیا کر جو تجھ جیسے مؤمن کے شایانِ شان ہے یعنی ہر چھوٹے بڑے عمل ِخیر کو اچھی نیت سے کر کیونکہ تمام اعمال کے ثواب کا دارومدار اچھی نیتوں پر ہے ۔ (1)
ایک عمل چند نیتیں : جب اس حدیث سے ثابت ہوگیاکہ عمل کے ثواب کا دارومدار نیت پر ہے تو اس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر ایک عمل پر ایک ہی اچھی نیت ہوگی تو ایک ہی ثواب ملے گا اور اگر ایک عمل کرتے وقت چند اچھی اچھی نیتیں  کرلی جائیں   تو جتنی تعداد میں  نیتیں  ہوں گی اتنی ہی تعداد میں  ثواب ملے گا ۔ مثلاً تمہارا کوئی بھائی مفلس و محتاج ہے اب اگر اس نیت سے تم نے اس کی مالی امداد کی کہ تم اپنے بھائی کی مدد کررہے ہو توتمہیں  اپنے رشتہ دار کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا ایک ثواب ملے گا اور اگر تم نے اس نیت سے اس کی مالی امداد کی ہے کہ وہ ایک مفلس اورغریب آدمی ہے تو تم کو صرف ایک مفلس کی مدد کرنے کا ثواب ملے گا اور اگر تم نے اس کی امداد کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مثنوی مولانا روم (مترجم)،دفتر دوم ، ص۴۱