قلب اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھیں گے ۔بزرگ نے حاضرین سے فرمایا کہ اب بولو! تم لوگ کیا کہتے ہو ؟بتاؤ اس شخص کو ثواب ملنا چاہیے یا نہیں تو سب لوگوں نے ایک زبان ہوکر کہا کہ بے شک ضرور اس کو ثواب ملنا چاہیے۔ پھر بزرگ نے دوسرے مرید سے دریافت کیا کہ کیوں جی ! تم نے کھونٹے کو اکھاڑا کیوں؟ اس نے عرض کیاکہ حضور اس مسجد کے کئی نمازی نابینا ہیں اور اندھیری راتوں میں بھی لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں تو میں نے اس نیت سے کھونٹے کو اکھاڑدیا کہ کسی نمازی کو ٹھوکر نہ لگ جائے ۔ بزرگ نے حاضرین سے دریافت فرمایا کہ کہیئے اب آپ لوگ کیا کہتے ہیں اس نے ثواب کا کام کیا ہے یا نہیں ،تو سب نے کہاکہ یقینا اس نے ثواب کا کام کیا ہے لہٰذا اس کو ضرور ثواب ملنا چاہیے۔
غور فرمائییے کہ دونوں مریدوں کا عمل ایک دوسرے کے بالکل خلاف ہے مگر چونکہ دونوں کی نیتیں اچھی تھیں اس لئے دونوں کو برابر ثواب ملا۔
حکایت:اسی طرح حضرت مولانا روم علیہ الرحمۃ نے بھی مثنوی شریف میں ایک بہت ہی مؤثر حکایت اس عنوان پر تحریر فرمائیی ہے ! وہ لکھتے ہیں کہ ؎
خانۂ نوساخت روزے نو مرید پیر آمد، خانۂ او را بدید!!
یعنی ایک مرید نے جو بالکل نیا نیا مرید ہواتھا، اس نے ایک نیا مکان بنایا اور اپنے پیر کو اس کے افتتاح کے لئے بلایا ۔ چنانچہ پیر صاحب تشریف لائے اور پورے مکان کا معائنہ فرماکر مرید سے دریافت کیا کہ ؎
روزن از بہر چہ کردی اے رفیق گفت تا نور اندر آید از طریق
یعنی پیر نے مرید سے پوچھا کہ تم نے مکان میں روشندان کس نیت سے بنایا