Brailvi Books

منتخب حدیثیں
40 - 243
 محروم ونامراد ہوکر رہ جائے گا۔
	بہرحال اس حدیث کا خلاصہ کلام اور حاصلِ مطلب یہی ہے کہ جو عملِ خیر نیک نیتی کے ساتھ کیا جائے گا اگرچہ وہ کتناہی چھوٹا عمل ہو اس پر ضرور اجروثواب ملے گا اور جو عملِ خیر بدنیتی کے ساتھ کیا جائے گا اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا عمل کیوں نہ ہو مگر ہرگز ہرگز اس پر کوئی ثواب نہیں  ملے گا۔
حکایت:اس سلسلے میں  ایک بزرگ کی حکایت بڑی سبق آموز اور عبرت خیز ہے۔ مشہور ہے کہ ایک بزرگ کے دو مرید تھے ایک مرید نے مسجد کے دروازے پرایک کھونٹا گاڑ دیا اور دوسرے مرید نے اس کھونٹے کو اکھاڑ کر پھینک دیا جب ان بزرگ کو لوگوں نے ان دونوں مریدوں کی حرکتوں سے آگاہ کیا تو وہ صاحب ِ کشف بزرگ تھے انہوں  نے مُراقَبَہ کیا اور اپنے دونوں مریدوں کی قلبی نیتوں کو دیکھ کر فرمایا کہ سبحان اللہ ! دونوں کو ثواب ملا۔ حاضرین نے حیرت سے کہا کہ حضرت! ایک نے کھونٹا گاڑا اور دوسرے نے اکھاڑا اور دونوں کو برابر ثواب ملا یہ کیسے! بزرگ نے زور دے کر فرمایاکہ ہاں! ہاں! دونوں کو ثواب ملا اور دونوں کو بالکل برابرثواب ملا ۔ جب لوگوں کو بہت زیادہ حیرانی ہوئی توآپ نے دونوں مریدوں کو بلا کر لوگوں کے سامنے پوچھا کہ کیوں جی! تم نے مسجد کے دروازے پر کھونٹاکیوں گاڑا تھا اس نے کہا کہ حضور ! میری نیت تو یہ تھی کہ مسجد لب ِسڑک تھی، اونٹ والے ، گھوڑے والے ، بیل والے نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں  آتے ہیں  تو ان لوگوں کا دھیان اپنے جانوروں میں  لگا رہتا ہے کہ نہ معلوم جانور کھڑے ہیں  یا بھاگ گئے ہیں  اور وہ خوب دل لگا کر نماز نہیں  پڑھ سکتے تھے اس لئے میں  نے وہاں ایک کھونٹا گاڑدیا تھا تاکہ لوگ اس میں  اپنے جانوروں کو باندھ کر حضورِ