Brailvi Books

منتخب حدیثیں
39 - 243
	 مثلاً کون نہیں  جانتا کہ ’’نماز‘‘ ایک ایسا بہترین اور اچھا عمل خیرہے کہ اَہَمُّ الفرائض اور افضل العبادات ہے۔ اگر خدا کی رِضاوخوشنودی اور اس کے قربِ رحمت کو طلب کرنے اور ادائے فرض خداوندی کی نیت سے نماز پڑھی جائے تو سبحان اللہ ! اس کے اجرو ثواب کا کیاکہنا نورہی نور بلکہ نور علی نورہے ۔لیکن یہی نماز اگر کوئی اس نیت سے پڑھے کہ لوگ مجھے نمازی سمجھ کر میری خوب خوب عزت اور آؤ بھگت کریں  گے اور میری بزرگی کا خوب خوب شہرہ  ہوگا تو ظاہر ہے کہ یہ نماز جو افضل العبادات ہے اس بری نیت سے بد ترین معصیت اور گناہ کا باعث بن گئی اور ایسے نمازی کو لعنتوں کی پھٹکار اور عذابِ نار کے سوا قَہَّار و جَبَّار کے دربارسے اور کیا ملے گا
	غرض ایک ہی اچھا عمل اچھی نیت سے لائق ثواب اور بری نیت سے باعثِ عذاب بن جاتاہے ۔اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے ارشادفرمایا کہ تمام اعمال کے ثواب کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو اس کی نیت ہی پر ثواب ملتاہے ۔
	پھر حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے اس قاعدہ کلیہ کو بیان فرمانے کے بعد اس کی ایک خاص مثال کے طور پریہ ارشاد فرمایا کہ’’جو اللہ اور رسول کی رِضا جوئی کی نیت سے ہجرت کرتاہے تواس کی ہجرت اللہ ورسول کے دربار میں  مقبول ہوتی ہے۔ ‘‘ اور خداوند ِقُدُّوس اس کو اپنے فضل ِلاجواب سے بے حساب اجروثواب عطافرماتاہے اور جو شخص کسی دنیاوی مَنْفَعَت اٹھانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی نیت سے ہجرت کرتا ہے تو اس کی ہجرت کا حاصل اور ترک وطن کا ماحَصَل وہی دنیاوی مَنْفَعَت اور وہی عورت ہے۔ باقی اجروثواب جس دولت کانام ہے اس کے ایک ذرہ کا کروڑواں حصہ بھی اس کو نہیں ملے گا بلکہ یہ سراسر خسارہ اور محرومی کی نحوست میں  گرفتار ہوکر خائب و خاسر اور