Brailvi Books

منتخب حدیثیں
38 - 243
 اصلی نام کسی کو یاد نہیں  رہا، چنانچہ اس شخص کا اصلی نام کیا تھا کسی کتاب میں  مجھے نہیں  ملا۔(1)(قسطلانی،ج ۱، ص ۱۶۳)
	جب اس واقعہ کی خبر رحمت ِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کو ہوئی تو آپ نے اس شخص کو تَنْبِیْہ و ہدایت کیلئے دورانِ خطبہ منبر پر یہ ارشاد فرمایا کہ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘ یعنی اعمال کا ثواب تو نیتوں پر موقوف ہے لہٰذا جو شخص جس نیت سے ہجرت کرتاہے وہی اس کو ملے گا۔
شرح ِحدیث: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اعمال دو قسم کے ہیں  برے اعمال اور اچھے اعمال، برا عمل تو خواہ بری نیت سے کیا جائے خواہ اچھی نیت سے اس پر ثواب ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں  ہے اس لئے کہ برا عمل تو بہر صورت براہی ہے اور باعث عذاب ہے۔رہ گیا اچھا عمل تو اس کے بارے میں  ارشادِ نبوی ہے کہ تمام اچھے اعمال خواہ دل کے اعمال ہوں  یا دوسرے اعضاء کے، اَوامر پر عمل ہو یا نواہی سے بچنا ہو، عبادت کے اعمال ہوں  یا عادات کے، ان سب اعمال پر ثواب اسی وقت ملے گا جب ان اعمال کو تَقَرُّب الیٰ اللہ اور رضائے الٰہی طلب کرنے کی نیت سے کیا جائے اور اگر معاذا للہ کوئی عمل خواہ وہ کتنا ہی اچھا سے اچھا عمل کیوں نہ ہو خدا کی خوشنودی کی نیت سے نہ کیا جائے بلکہ ریا کاری یا شُہْرت یا لذتِ نفس یا اور کسی غرضِ فاسد کی نیت سے کیا جائے تو اگرچہ وہ عمل فرض و واجب یا سنت و مستحب ہی کیوں نہ ہو مگر ہرگز ہرگز اس پر کوئی اجر و ثواب نہیں  ملے گا بلکہ الٹا نقصان ایمان اور عذابِ جان کا باعث اور دونوں جہاں میں  
  ُخسران وحِرمان کا سامان بن جائے گا ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ارشاد الساری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۱، ج۱،ص۹۴ملخصاً