Brailvi Books

منتخب حدیثیں
37 - 243
 اہل لغت کا قول ہے کہ اس عالَم کو ’’دنیا‘‘ اس لئے کہتے ہیں  کہ یہ زوال کے قریب ہے یا یوں سمجھ لیجئے کہ چونکہ یہ بہ نسبت آخرت کے ہم لوگوں سے زیادہ قریب ہے اس لئے اس کو ’’دنیا ‘‘ یعنی ’’زیادہ قریب ہونے والی‘‘کہنے لگے۔
	علمائے متکلمین ہر اُس مخلوق کو ’’دنیا‘‘ کہتے ہیں  جوآخرت سے پہلے وجود میں  آئی اور صوفیائے کرام کے نزدیک ہر وہ چیز دنیا ہے جو انسان کو خدا سے غافل کردے۔ چنانچہ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ’’صوفِیَہ‘‘ کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی مَثْنَوِی شریف میں  فرماتے ہیں:
چیست دنیا از خدا غافل بدن 	نے قماش ونقرۂ و فرزند و زن
	یعنی خدا سے غافل ہوجانے کا نام ’’دنیا‘‘ہے لباس ، چاندی اور بیوی بچے اگر انسان کو خدا سے غافل نہ کریں  تو یہ چیزیں  دنیا میں  شمار نہیں  کی جائیں   گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
ارشادِ حدیث کا باعث:  اس حدیث کے ارشاد کا سبب کیا ہے اور کب کس موقع پر اور کیوں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے یہ حدیث صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم  کو سنائی اس کا واقعہ بہت ہی عجیب اور نہایت ہی عبرت انگیز ہے ۔
	حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں  کہ ایک مسلمان عورت جس کا نام ’’قیلہ‘‘ تھا مگر عام طور پر لوگ اس کو ’’اُمِّ قیس‘‘ کہہ کر پکارتے تھے ۔ اس عورت کو ایک شخص نے نکاح کا پیغام دیا، اُم قیس نے اس کو یہ جواب دیا کہ جب تک تو مکہ سے مدینہ ہجرت نہیں  کرے گا میں  تجھ سے نکاح نہیں  کروں گی ۔آخر اس شخص نے نکاح کرنے کے لئے ہجرت کی، صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں  یہ بات مشہور ہوگئی چنانچہ صحابۂ کرام اس شخص کو ’’مہاجر ام قیس‘‘ کہنے لگے اور یہ شخص اس لقب سے اس قدر مشہور ہوگیا کہ اس کا