ہجرت ہو کیونکہ زمانۂ نبوت میں دو قسم کی ہجرت ہوئی، ایک دارُ الخوف سے دارُالامان کی طرف جیسے کہ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی اس وقت میں مکہ اور حبشہ دونوں ہی دارُالکُفْر تھے مگر مکہ میں مسلمانوں کو جان وایمان کا خوف وخطر تھا اور حبشہ میں ان کے لئے جان وایمان کے بارے میں امن وامان تھا ۔ دوسری ہجرت دارُالکُفْرسے دارُالاسلام کی طرف جیسے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ طیبہ میں ساکن ومتمکن ہوجانے کے بعد مکہ کے مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اس وقت مکہدارُالکُفْر تھا اور مدینہ دارُالاسلام بن چکا تھا۔
بہرکیف مختلف شارحینِ حدیث کی تقریروں سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ دارالکفر سے دارالاسلام ہی کی طرف جانے میں ہجرت منحصر نہیں ہے بلکہ ایک اسلامی ملک میں بھی اگر حُکّام و عمّالِ حکومت کے عقائد ونظریات اس قدر بگڑ جائیں کہ ایک صحیح ُالْعَقِیْدہ مسلمان کی اسلامی زندگی وہاں تنگ ہوجائے اور دین پر قائم رہنا مشکل ہوجائے تو اپنے دین و ایمان کی حفاظت اور سلامتی کے لئے وہاں سے کسی بھی ایسے ملک میں چلا جانا جہاں اسلامی زندگی بسر کرنے میں کوئی مُزاحَمَت نہ ہو یہ بھی شرعی ہجرت ہی ہوگی ۔ اسی طرح اگر کسی دارالکفر میں مسلمان کو اپنے دین و ایمان پر قائم رہنا مشکل نظر آتا ہو اوراس کے قریب ہی میں کوئی ایسا دارالکفر ہو جواتنا ظالم و جابرنہ ہو بلکہ وہ کسی مسلمان کے اسلامی زندگی بسر کرنے میں کوئی مُزاحَمَت ہی نہ کرتا ہو تواس صورت میں اس دارُالکُفْر سے دوسرے دارُالکُفْر میں چلے جانا یہ بھی شرعی ہجرت ہی کہلائے گی اور ان سب صورتوں میں بشرطِ اخلاصِ نیت اِنْ شاء اللہ تعالیٰ ہجرت ہی کاثواب ملے گا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
دنیا:یہ اسم تفضیل ’’ادنیٰ‘‘ کا مؤنث ہے جس کے معنی ہیں ’’زیادہ قریب ہونے والی‘‘