چنانچہ اس کے راوی امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی مِنْبر پر دورانِ خطبہ میں اس حدیث کو بیان فرمایا ۔{۶}عام طور پر محدثین کرام اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو اس بات پر مُتَنَبِّہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے عملِ تَصْنِیف و تالِیف میں اپنی نیتوں کو درست کرلیں ، کیوں!اس لئے کہ ؎
ہو اگر نیت بری اچھے عمل بیکار ہیں جاگتا ہے چور بھی مثل نگہباں رات بھر
توضیح الفاظ:حدیث مذکور میں تین الفاظ قابلِ وضاحت ہیں لہٰذا ان کی تشریح حسبِ ذیل ہے :
نیت: دل کے قصد وارادہ کو نیت کہتے ہیں اور اس حدیث میں نیت سے مراد خداوند تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کے دربار میں تقرب حاصل کرنے کا قصد وارادہ ہے۔
ہجرت : لغت میں ’’ہجرت‘‘ کے معنی ہیں ’’کسی چیز کو چھوڑ دینا۔‘‘چنانچہ بعض حدیثوں میں ہجرت کا لفظ ’’چھوڑ دینے ‘‘ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ اَلْمُھَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْہٗ (1) یعنی کامل درجے کا ’’مہاجر ‘‘ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی منع کی ہوئی تمام چیزوں کو چھوڑ دے لیکن شریعت کی اصطلاح میں ’’ہجرت‘‘ یہ ہے کہ مسلمان خداوند تعالیٰ کی خوشنودی کے پیش نظر اپنے دین و ایمان کی سلامتی کے لئے شہر یا ملک کو چھوڑ کر کسی دوسرے شہر یا ملک میں چلا جائے جہاں اس کا دین وایمان محفوظ رہ سکے ۔
ہجرت کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ دارُالکُفْر سے دارُا لاسلام ہی کی طرف
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود،کتاب الجھاد،باب الھجرۃ ھل انقطعت؟،الحدیث: ۲۴۸۱،ج۳،ص ۷