سِوُم: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومنِ کامل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی (مومن) کے لئے اسی چیز کو پسند نہ کرے جس کو وہ اپنے لئے پسند کرتاہے ۔
چہارم: حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مُشْتَبہچیزیں بھی ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو شخص ان مُشْتَبہ چیزوں سے بھی پرہیز کرتا رہا اس نے اپنے دین اور اپنی آبروکو بچا لیا اور جو شخص ان مُشْتَبہ چیزوں میں پڑ گیا وہ کبھی نہ کبھی حرام میں بھی واقع ہوجائے گا جیسے وہ چرواہا جو حِمیٰ (محفوظ شاہی چراگاہ) کے ارد گرد جانور کو چراتا ہے تو ہوسکتاہے کہ اس کا جانور کبھی نہ کبھی حِمیٰ میں بھی داخل ہوجائے۔ خبر دار ! ہر بادشاہ کے لئے حمیٰ ہوتی ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ کی حمیٰ اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں سن لو اور یقین رکھو کہ بدن میں گوشت کا ایساٹکڑا ہے کہ جب وہ درست ہوجائے گاتو پورا بدن درست ہوجائے گا اور جب وہ فاسد ہوجائے گا تو پورا بدن فاسد ہوجائے گا ۔ آگاہ ہوجاؤ کہ وہ ’’دل‘‘ ہے ۔
پنجم:کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت رہیں۔ (1) (بشیر القاری، ص۶۵)
{۴} بعض محدثین نے اس حدیث کو ’’حدیث ِمتواتر ‘‘ کہا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے حق یہ ہے کہ یہ حدیث سند کے آخری حصہ کے اعتبار سے ’’حدیث ِ مشہور‘‘ ہے اور سند کے ابتدائی حصہ کے اعتبار سے ’’غریب ‘‘ ہے ۔(2) (قسطلانی،ج۱،ص۱۶۴) واللہ تعالیٰ اعلم۔
{۵} اس حدیث کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بشیر القاری ،ج۱،ص۶۵،ماخوذاً
2…ارشاد الساری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی۔۔۔الخ، تحت
الحدیث:۱،ج۱،ص۹۵۔۹۶ملتقطاً