{۲} امام مسلم ، امام ترمذی، امام نساء ، امام ابن ما جہ ،امام احمد ، امام دارقطنی ، امام ابن حبان ، امام بیہقی جیسے مُسلّم الثُّبوت اور بلند پایہ مُحدِّثین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں اس حدیث کو پوری شان و شوکت کے ساتھ نقل فرمایا ہے ۔
{۳}محدثین نے اس حدیث کو ان بنیادی حدیثوں میں سے شمار کیا ہے جن پر دین ِاسلام کا دارومدار ہے ۔ چنانچہ اس حدیث کے بارے میں ابو داود محدث کا قول ہے کہ لاکھوں احادیث کے خزانوں میں سے دین پرعمل کرنے کے لئے صرف چار حدیثیں کافی ہیں اور ان چار میں سے ایک اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِہے ۔
حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما نے فرمایا کہ اس حدیث میں علم ِدین کا ایک تہائی حصہ ہے ۔ (1)کیونکہ دین کے اعمال تین ہی قسم کے ہیں : قَلْب کے اعمال، زبان کے اعمال،باقی اعضاء کے اعمال اوراس حدیث میں اعمالِ قلب یعنی ’’نیت‘‘ کا ذکر ہے ۔(قسطلانی،ج۱، ص۱۶۴)
مَخْدوم شیخ احمد کمشخانوی قدس سرہٗ نے جامع الاصول کے مُتِمَّات میں ذکر فرمایا ہے کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے فرزند جناب ’’حماد‘‘ کو نصیحت فرماتے ہوئے یہ تحریر فرمایا کہ اے نورِ نظر ! میں نے پانچ لاکھ حدیثوں میں سے چن کر ایسی پانچ حدیثوں کو منتخب کیا ہے کہ اگر تم نے ان کو یادکرکے ان پر پورے اعتماد کے ساتھ عمل کیا تو تم دونوں جہان کی سعادتوں سے سرفراز ہوجاؤگے اور وہ پانچ حدیثیں یہ ہیں :
اول: حدیث اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِیعنی تمام اعمال کے ثواب کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
دوم: آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے یہ ہے کہ وہ تمام لایعنیاور بیکار چیزوں کو چھوڑ دے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ارشاد الساری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی۔۔۔الخ، تحت الحدیث۱،
ج۱،ص۹۵