Brailvi Books

منتخب حدیثیں
32 - 243
 لقب ’’فاروق‘‘ ہے۔ آپ قدیم ُالاسلام ہیں ۔ آپ چالیس مردو ں اور گیارہ عورتوں یا انتالیس مردوں اور تیرہ عورتوں یا پینتالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے مسلمان ہونے کے بعد اسلام لائے ۔حضرت جِبْرائیل علیہ السلام نے بارگاہِ نبوت میں  حاضر ہوکر یہ خوش خبری سنائی کہ یارسول اللہ ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آسمان والے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے اسلام لانے پر خوشی منارہے ہیں  ۔ خلیفہ اوّل امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے آپ کو اپنا ولی عہدمُنْتخَب فرمایا ۔ چنانچہ آپ کی وفات کے بعد ۲۲ جمادی الاخریٰ                              ۱۳ھ؁ کو آپ امیر المؤمنین منتخب ہوئے اور دس برس چندماہ مسندِ خلافت پر رونق افروز رہے اور فارس و روم کی سلطنتوں سے جہاد فرماکر ان ممالک کو خلافتِ اسلامیہ کے زِیرِنگین فرمایا ۔ پھر اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی اور ترقی کے بے شمار سامان مہیا فرما کر ۲۸ ذوالحجہ              ۲۳ ھ ؁ بروز پنج شَنْبہ بمقام مدینہ منورہ تریسٹھ برس کی عمرمیں  شہادت سے سرفراز ہوئے اور روضہ منورہ میں  مدفون ہوئے ۔ پانچ سوانتالیس حدیثیں  آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہیں  آپ کے فضائل ومَناقِب بہت زیادہ ہیں  جن کا مُفصَّل بیان ہماری کتاب ’’حقانی تقریریں ‘‘ میں  پڑھیئے۔
اس حدیث کی خُصوصیات: اس حدیث کی چند خصوصیات قابل ذکر ہیں  :
{۱}یہ بخاری شریف کی سب سے پہلی حدیث ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کو متعدد سندوں اور مختلف لفظوں کے ساتھ اپنی اس کتاب میں  دوسرے چھ مقامات پر بھی ذکر فرمایا ہے اور وہ چھ مقامات یہ ہیں  :
{۱}کتابُ الایمان{۲}کتابُ العِتق {۳} بابُ الہجرۃ {۴}کتابُ النِکاح {۵}کتابُ الاِیمان {۶} کتابُ الحِیَل