Brailvi Books

منتخب حدیثیں
30 - 243
 صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  یہ نہ فرمادیتے کہ’’اَلْحَمْد‘‘سے ’’وَالنَّاس‘‘  تک کا پورا کلام قرآن مجید اور کلام الٰہی ہے تو قیامت تک کوئی نہیں  جان سکتا تھا کہ کون ’’کلام اللہ‘‘اور کون ’’کلام رسول‘‘ہے ۔
	لہٰذاہر مسلمان کو اس حقیقت پر پوراپورا ایمان رکھنا چاہیے کہ مَسائلِ شریعت کی دلیلوں میں  قرآن شریف کے بعد حدیث شریف ہی کا درجہ ہے اور بغیر احادیث ِرسول پر ایمان لائے ہوئے نہ کوئی قرآن کے مَعانی و مَطالب کو کما حقہٗ سمجھ سکتا ہے نہ دین اسلام پرعمل کرسکتا ہے ۔
	اس لئے اس زمانے میں  جو لوگ حدیثوں کے خلاف عَلَمِ بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں  مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ لوگ گمراہ ، بد مذہب بلکہ بعض تومُلحد اور مُرتد ہوچکے ہیں  لہٰذا ان لوگوں کی کوئی تحریر پڑھنی اور ان لوگوں کے وَعْظوں میں  شرکت حرام و ناجائز ہے ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کی صحبت کو سَمِ قاتل اور زہرِ ہَلاہَل سمجھ کر ان سے اجتناب وپرہیز کولازم پکڑیں  یہی حکم تمام گستاخِ رسول فرقوں اور ان کی کتب کے متعلق ہے خواہ یہ حضرات کتنی ہی مَکّاری سے اپنے اوپر حنفی ، شافعی کا لیبل چسپاں کریں  ۔
دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں سفر اور روزانہ فکر مدینہ کے ذریعہ مدنی انعامات کا کارڈپُر کر کے ہر مدنی ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی برکت سے پابندِ سنت بننے، گناہوں  سے نفرت اور ایمان کی حفاظت کیلئے کڑھنے کا ذہن بنے گا۔