Brailvi Books

منتخب حدیثیں
29 - 243
لطیفہ:ایک منکر ِحدیث خواہ مخواہ مجھ سے الجھ گیا اور کہنے لگا کہ قرآن میں  ’’اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ‘‘ کے معنی مولویوں نے جو ’’نماز پڑھنا‘‘بتایا ہے وہ غلط ہے کیونکہ لغت میں  ’’صلوٰۃ‘‘ کے معنی تو دعا مانگنے کے ہیں ۔ لہٰذا  اَقِیْمُواالصَّلٰوۃَ کا یہ مطلب ہوا کہ پابندی کے ساتھ دعا مانگتے رہو۔ 
	میں  نے اس سے کہا کہ الفاظِ قرآن کے معانی لغت سے بیان کیے جائیں   گے یا رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریحات کے مطابق قرآن کا ترجمہ کیا جائے گا تواس نے نہایت بے باکی کے ساتھ برجستہ کہا کہ جناب ! قرآن عربی زبان میں  نازل ہوا ہے لہٰذا عربی کی لغات ہی سے قرآن کا ترجمہ کیا جائے گا رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریحات کا پابند ہونا ہمارے لئے کوئی ضروری نہیں  ہے ۔
	یہ سن کرمیرا خون کھول گیا مگر میں  نے ضبط کیا لیکن جل بھُن کر میں  نے اس سے کہا کہ جناب !اگر لغت ہی سے قرآن کا ترجمہ کرنا ہے تو لغت میں  ’’صلوٰۃ‘‘ کے بہت معنی لکھے ہوئے ہیں  اور ایک بہت ہی دلچسپ مگر پھوہڑ معنی ’’تحریک ا لصلَوَ ْین‘‘ (سرین ہلانا) بھی ہے (تفسیر بیضاوی) تو پھر ’’اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ‘‘  کا یہ ترجمہ کیوں نہ کیجئے کہ ’’پابندی سے سُرین ہلاتے رہو۔‘‘ چلو چھٹی ہوئی نہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہ دعا مانگنے کی حاجت بس ہر دم سرین ہلاتے رہو اور قرآن پر عمل کرتے رہو۔ 
	میری یہ غضب ناک مگر حقیقت افروز تقریر سن کر وہ اس قدر مَرْعُوب ہوا اور جِھینْپ گیا کہ پھر نہ وہ مجھ سے آنکھ ملا سکا نہ کچھ بول سکا بلکہ دُم دبا کر چپکے سے بھاگ نکلا۔
	بہرحال حقیقت تو یہ ہے کہ دین میں  احادیث ِرسول کی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ بغیر احادیث کے تو قرآن مجید کا کلام الٰہی ہونابھی نہیں  معلوم ہوسکتا ۔ اگررسول اکرم