Brailvi Books

منتخب حدیثیں
28 - 243
اسی طرح ارشادِ ربانی ہے کہ
یَاۡمُرُہُمۡ بِالْمَعْرُوۡفِ وَیَنْہٰىہُمْ عَنِ الْمُنۡکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الْخَبٰٓئِثَ (اعراف) (1)
یعنی رسول لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں  اور بدی سے منع کرتے ہیں  اور لوگوں کے لیے ستھری چیزوں کو حلال فرماتے ہیں  اور گندی چیزوں کو حرام فرماتے ہیں ۔
	مذکورہ بالا آیات اور اس قسم کی دوسری بہت سی آیتیں  اعلان کررہی ہیں  کہ رسول ایک’’ قاصد اور ایلچی‘‘ کی پوزیشن میں  نہیں  ہیں  بلکہ رسول کا منصب رسالت اس قدر بلند وبالا ہے کہ رسول مقتدیٰ ومُطاع ہیں ، رسول آمروناہی ہیں ، رسول حلال کرنے والے، حرام کرنے والے ہیں ، رسول حاکم و حکم اور معلم و شارع ہیں  ۔
	مسلمانو! ذرا سوچوتو سہی کہیں  قاصدا ور ایلچی کی بھلا یہ شان ہوا کرتی ہے!
منکرین ِحدیث کی نفسانیت
	پھر یہ بھی ذہن میں  رکھیے کہ منکرین ِحدیث نے کسی دینی جذبہ کے ماتحت قرآن پر عمل اور حدیثوں کے انکار کا اعلان نہیں  کیا ہے بلکہ اس فِتنہ وفَساد سے ان کی غرضِ فاسد یہ ہے کہ حدیثوں کا انکار کرکے قرآن کے مَعانی ومَطالب بیان کرنے میں  وہ تشریحاتِ نبوت کی مقدس حدبندیوں سے آزاد ہوجائیں   اور بالکل آوارہ ہوکر قرآن کے مفہوم و مراد کو اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق ڈھال سکیں  ۔ چنانچہ اس سلسلے میں  ایک لطیفہ بہت ہی دلچسپ بھی ہے اور نہایت ہی عبرت خیز و نصیحت آموز بھی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز الایمان:وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع فرمائیے گا اور ستھری چیزیں ان کے 
        لیے حلال فرمائیے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا ۔  (پ۹،الاعراف:۱۵۷)