Brailvi Books

منتخب حدیثیں
27 - 243
مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ(حشر) (1)
یعنی رسول جو کچھ تم کو (حکم )دیں  اس کو لو اور جس چیز سے تم کو منع کریں  اس سے باز رہو۔
	مسلمانو! دیکھ لو! قرآن کا یہ فرمان صاف صاف اعلان کررہا ہے کہ رسول  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے اَوامر ونَواہی جو حدیثوں کی صورت میں  ہیں  یقینا بلاشبہ واجب العمل اور احکام ِشرع کی حُجت اور مضبوط دلیلیں  ہیں ۔
 منصبِ رسالت
	حقیقت تو یہ ہے کہ جولوگ حدیثوں کے دلیل شرعی ہونے کا انکار کرتے ہیں  وہ در حقیقت مقامِ نبوت و منصبِ رسالت ہی کے منکر ہیں  ۔ ان لوگوں کے نزدیک رسول کی حیثیت محض ایک ’’قاصداور ایلچی ‘‘کی سی ہے حالانکہ قرآن مجید نے صاف و صریح لفظوں میں  اس مُلحدانہ نظریہ اور کافرانہ بکواس کی جڑ ہی کاٹ ڈالی ہے ۔
 	چنانچہ قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ (نساء)(2) 
یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔
 کہیں  ارشاد فرمایا:
وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللہِ (نساء)(3)
یعنی ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا اسی لئے بھیجا تاکہ اللہ کے حکم سے اسکی اطاعت کریں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنز الایمان:جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائییں وہ لو اور جس سے منع فرمائییں باز رہو۔  (پ۲۸،الحشر:۷)
2…ترجمۂ کنز الایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے اللہ کا حکم مانا۔ (پ۵،النسآء:۸۰)
3…ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اسکی اطاعت کی 
        جائے۔ (پ۵،النسآء:۶۴)