قطعاتِ تاریخ
ایں رسالہ چو تحریر کرد اعظمی گفت ہاتف کہ ’’اَحْسَنْتَ‘‘صد مرحبا
گرکسے سالِ تصنیف پُرسد بگو گشت تاریخِ او،باغ فردوس ما
(۱۳۹۴ھ)
دیگر
لکھ رہا ہوں حدیثِ رسولِ خدا میری تحریر میں خُلد انوار ہے
ہے تصور حبیبِ خدا کا مجھے سامنے میرے طیبہ کا دربار ہے
مصطفی کے یہ چالیس اقوال ہیں ان پہ قربان جنّت کا گلزار ہے
جمع چالیس ایسی حدیثیں ہوئیں حشر میں جن سے بیڑا مرا پار ہے
مومنوں کے لیے ’’باغِ فردوس ‘‘ہے کُفر کے واسطے حق کی تلوار ہے
یہ جواہر حدیثوں کے ہیں اعظمی! ان کی تاریخ اقوالِ مُختار ہے
(۱۳۹۴ھ)
تاریخ ِاِفتتاح ِتصنیف تاریخ ِاِختتام ِتصنیف
۲۶ جمادی الاخریٰ ۱۳۹۴ھ ۲۷رمضان المبارک ۱۳۹۴ھ