نوٹ: اس قسم کے دو سو محدثین و فقہاء امت کے مفصل حالات، ان کی علمی وعملی خدمات اور عبادات وکرامات کا تذکرہ ہماری کتاب ’’ اولیائے رِجال الحدیث‘‘ میں پڑھئے اس کتاب کو مدارس عربیہ کے طلبہ و مدرسین، واعِظِین اور عامۃُ المسلمین سبھی نہایت ہی والہانہ عقیدت کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔
دُعا
اے خداوند جہاں، اے کردگار سارے عالَم کا تُو ہے پروردگار
شکر تیرا کس طرح سے ہو ادا نعمتیں یارب ہیں تیری بے شمار
خالق و مالک تو سب کا بالیقین سب ہیں تیرے بندءہ خدمت گزار
سب کا تو معبود ،سب عابد ترے تیرے در کے سب گدائے خاکسار
نیکیوں سے ہاتھ خالی ہیں مرے تیری رحمت کا ہوں میں اُمیدوار
بخش دے یارب گناہوں کو مرے تو ہے غَفَّار،اور میں عِصْیاں شِعار
ہے ترے دربار میں یہ التجا! گو نہیں دُنیا میں میرا کچھ وقار
وعدہ فرمایا ترے محبو ب نے دو جہاں میں ہیں جو میرے غمگسار
میری اُمَّت کو’’مِری چالیس بات‘‘ جو بھی پہنچادے گا بن کر دیندار
حشریوں فرمائیےگا اُس کا خدا وہ بنا ہوگا فقیہ نام دار
اور میں ہوجاؤں گا اس کا شفیع اور گواہی دوں گا اس کی شاندار
یہ بشارت سُن کے اے ربِّ کریم نخل دل میں آگئی میرے بہار
اس لیے ’’چالیس اقوالِ رسول‘‘ چھاپتا ہوں لکھ کے یارب بار بار
فضل سے اپنے عطا کر اے خدا اعظمی کو بھی یہ رتبہ،یہ وقار