Brailvi Books

منتخب حدیثیں
238 - 243
 کی و  جہ سے ’’دارمی‘‘کہلاتے ہیں ۔۱۸۱ھ؁ میں  پیدا ہوئے اور ۲۵۵ھ؁ میں  وفات پائی۔ چوہتَّر برس کی عمر شریف ہوئی۔ (1)رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (اکمال)
امام بیہقی:ابو بکر احمد بن حسین بَیہَقی شعبان۳۸۴؁ھ میں  نیشا پور سے تیس کوس دور ’’بَیْہَق‘‘ نامی گاؤں میں  پیدا ہوئے اس لیے ’’بَیْہَقی‘‘کہلاتے ہیں ۔زہد و تقویٰ اور دیانت و عبادت میں  علمائے ربانیین کی تمام خصائل حمیدہ کے جامع تھے ۔امام حاکم کے بلند مرتبہ شاگردوں میں  سے ہیں ۔فن حدیث و فقہ اور تصانیف میں  یکتائے روزگار ہوئے ہیں ۔ مشہور فقیہ وقت محمد بن عبد العزیز مَروزی کا بیان ہے کہ ایک روز میں  نے خواب میں  دیکھا کہ ایک صندوق زمین سے آسمان کی طرف اڑا جارہا ہے اور اس کے اِرد گِرد نور چمک رہا ہے ۔میں  نے دریافت کیا کہ یہ کیا چیز ہے ؟تو فرشتوں نے جواب دیا کہ یہ امام بَیْہَقی کی تصنیفات کا صندوق ہے جو بارگاہ ِالٰہی میں  مقبول ہوگیا ہے۔ 
         آپ کی کل تصنیفات کا اندازہ بڑے ساءز کے سولہ ہزار صفحات کے قریب ہے۔ ۱۰جمادی الا ُولیٰ ۴۵۸؁ھ میں  آپ کا وصال ہوا ۔لوگ ان کو تابوت میں  رکھ کر ’’بَیْہَق‘‘ گاؤں میں  لائے اور مقام  ُ  ْ  ُ   خسر وْ   ِ جر ْد میں  دفن کیا ۔ (2)رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ   (بستان المحدثین واکمال)	
امام خطابی:ان کی کنیت ابو سلیمان اور نام و نسب احمد بن محمد خَطَّابی ہے اپنے دور کے  ’’علامۃ العصر‘‘اور یکتائے دہر تھے۔فقہ و حدیث اور ادب وغیرہ میں  بہت ہی باکمال اور فخر روزگار تھے ۔ان کی تصنیفات بھی بہت ہی مشہور اور عجیب ہیں  ۔مَعالِم ُالسنن ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال،الباب الثانی فی ذکر ائمۃ۔۔۔الخ، ص۶۲۸
2…بستان المحدثین (مترجم)، ص۱۳۳۔۱۳۵
            واکمال فی اسماء الرجال، الباب الثانی فی ذکر ائمۃ۔۔۔الخ، ص۶۲۸