امام ابن ماجہ: ابو عبداللہ کنیت ،محمد بن یزید نام اور رِبْعی قَزْوِینی نسبت ہے مگر عام طور پر ’’ابن ما جہ ‘‘کے عرف کے ساتھ مشہور ہیں اور صحیح قول یہی ہے کہ ’’ما جہ ‘‘آپ کی والدہ کا نام ہے۔ صِحاح سِتَّہ میں ’’سُنن ابن ماجہ ‘‘آپ ہی کی تصنیف ہے ۔آپ ’’قَزْوِین‘‘ کے رہنے والے ہیں جو ایران کے صوبہ آذرباءیجان کا ایک مشہور شہر ہے۔ آپ نے حدیث کی طلب میں حجاز ،عراق ،شام ، خُراسان کا علمی سفر فرمایا اور خاص کر بصرہ ،کوفہ اور بغداد و حر مین شریفین و دمشق کے شہروں میں مقیم رہ کر تقریبًا تین سو دس شُیوخ سے احادیث کی روایت فرماءی، لاکھوں حدیثوں کے ذخیروں میں سے انتخاب کرکے چار ہزار روایات کومختلف ابواب کے تحت پوری مناسبت کے ساتھ اپنی کتاب ’’سنن ابن ماجہ ‘‘ میں درج فرمایا ۔عمر بھر علم حدیث کے درس و تدریس کامَشْغَلہ رہا بلند پایہ محدثین میں آپ کا شمار ہے۔(1)
۲۰۹ھ میں آپ کی ولادت ہوئی اور ۲۱ رمضان ۲۷۳ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔ محمد بن علی قَہْرَمَان اور ابراہیم بن دینار ورّاق دو بزرگوں نے آپ کو غسل دیااور آپ کے بھائی ابو بکر نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کے دونوں برادران ابو بکر و عبداللہ اور آپ کے فرزند عبید اللہ نے آپ کو قبر میں اتارا ۔رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (تاریخ ابن مجہ وغیرہ)
امام دارمی:ان کی کنیت ابو محمد اور نام و نسب عبداللہ بن عبد الرحمن دارمی ہے۔سمر قند کے علماء میں سے نہایت ہی بلند پایہ حافظ حدیث ہیں ۔امام مسلم،امام ترمذی،امام ابو داو د کے اساتذہ میں سے ہیں ۔ابو حاتِم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ اپنے زمانے کے امام تھے ۔قبیلہ بنی تَمِیْم میں ایک خاندان دارم بن مالک بن حنظلہ کی طرف نسبت ہونے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بستان المحدثین(مترجم)،ص۲۹۸۔۳۰۰