Brailvi Books

منتخب حدیثیں
234 - 243
 حدیثیں  آپ کو زبانی یاد تھیں ۔
	آپ کی بہت سی تصانیف میں  سے آپ کی کتاب ’’صحیح مسلم شریف‘‘جو صحاح ستہ میں  داخل ہے اس میں  فن حدیث کے عجاءبات اور خاص کر لطاءف اَسناد اور متونِ حدیث کے حسنِ سیاق کی ایسی بے مثال مثالیں  ہیں  جو بلاشبہ نوادرات کا درجہ رکھتی ہیں ۔
	آپ کی وفات کا سبب بڑا ہی عجیب و غریب ہے۔آپ ایک حدیث کی تلاش میں  کتابوں کی ورق گردانی کرتے رہے۔کھجوروں کا ایک ٹوکرا آپ کے قریب رکھا ہوا تھا ۔مطالعہ کی حالت میں  ایک ایک کھجور اس میں  سے کھاتے رہے اور مطالعہ میں  اس قدر مُنْہَمِک ہوگئے کہ حدیث ملنے تک تمام کھجوریں  تناول فرماگئے اور آپ کو کچھ خبر نہیں  ہوئی اس کے بعد آپ کو درد شکم ہوا اور یہی آپ کی وفات کا سبب بنا۔ (1)  رحمہ اللہ تعالیٰ  (بستان المحدثین،اکمال وغیرہ)
امام ترمذی:آپ کی کنیت ابو عیسی اور نام و نسب محمد بن عیسی بن سورہ بن موسٰی بن ضحاک سلمی بُوغی ہے۔’’بوغ ‘‘ایک گاؤں کا نام ہے جو شہر ’’ترمذ‘‘ سے چھ کوس کے فاصلہ پر ہے ۔ اس گاؤں کی طرف نسبت ہونے سے آپ ’’بوغی‘‘ بھی کہلاتے ہیں ۔ آپ اسی گاؤں میں  ۲۰۹ھ؁ میں  پیدا ہوئے اور ۱۳ رجب شب دوشنبہ ۲۷۹ھ؁ میں  وفات پائی اور خاص ’’ترمذ‘‘شہر میں  مدفون ہوئے۔
	آپ امام بخاری کے سب سے مشہور شاگرد و جانشین شمار کئے جاتے ہیں  اور آپ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ خود امام بخاری نے بعض حدیثوں میں  ان کی شاگردی اختیار فرمائی۔علم حدیث کے لیے ہزاروں میل کا سفر کیا۔ آپ کی تصنیفات میں  سے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بستان المحدثین(مترجم)،ص۲۷۸۔۲۸۲ملتقطاً
           واکمال فی اسماء الرجال،البا ب الثانی فی ذکرائمۃ۔۔۔الخ،ص۶۲۷