Brailvi Books

منتخب حدیثیں
233 - 243
کہ اسی گاؤں میں  آپ کی وفات ہوگئی۔دفن کے بعد آپ کی قبر کی مٹی سے مشک کی خوشبو آنے لگی۔چنانچہ مدتوں تک یہ سلسلہ جاری رہا کہ لوگ دور دور سے آکر آپ کی قبر کی مٹی کو خوشبو کی و    جہ سے اٹھالے جاتے تھے۔
	امام بخاری نہایت زاہد و پرہیزگار اور صاحب تقویٰ و عبادت گزار تھے۔عمر بھر کسی کی غیبت نہیں  کی۔اُمراء و سلاطین کے درباروں میں  کبھی نہیں  گئے۔درس حدیث کے بعد فاضل اوقات میں  کثرت نوافل اور تلاوتِ قرآن مجید کا شغل رکھتے تھے۔(1) رحمہ اللہ تعالیٰ (بستان المحدثین، مقدمہ بخاری وغیرہ)
امام مسلم:آپ کی کنیت ابو الحسین اور نام و نسب مُسلم بن حجاج بن مسلم ہے اور لقب عسا کر الدین ہے۔بنی قُشَیْر قبیلہ کی طرف نسبت ہونے کی و  جہ سے’’قُشَیْری ‘‘ کہلاتے ہیں ۔نیشا پور کے  رہنے والے ہیں ۔جو خُراسان کا بہت ہی خوبصورت اور مردم خیز شہر ہے ۔۲۰۲ھ؁ میں  پیدا ہوئے اور بعضوں نے آپ کا سنِ ولادت ۲۰۴ھ؁ اور بعض نے ۲۰۶ھ؁تحریر کیا ہے۔مگر ان کی وفات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ ۲۴ رجب ۲۶۱ھ؁ میں  آپ کا وصال ہوا۔
	آپ کا شمار حدیث کے جلیل القدر اماموں میں  ہے ۔آپ نے حدیث کی طلب میں  عراق ،حجاز،شام ،مصر وغیرہ کے بہت سے علمی مراکز کا سفر کیا۔
	آپ کے استادوں میں  امام احمد بن حنبل ،یحییٰ بن یحییٰ نیشا پوری ،قُتَیْبہ بن سعید، اسحق بن راہویہ ،عبداللہ بن مسلمہ قَعْنَبِی وغیرہ سینکڑوں ائمہ حدیث ہیں  اور امام ترمذی و ابوبکر بن خزیمہ جیسے حدیث کے پہاڑوں نے آپ کی شاگردی اختیار کی۔ تین لاکھ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مقدمۃ صحیح البخاری،الفصل الاوّل،ص۳۔۴ملتقطاً 
           وبستان المحد ثین (مترجم) ص۲۶۶۔۲۷۳ملتقطاً