Brailvi Books

منتخب حدیثیں
232 - 243
پھر اپنی والدہ اور اپنے بھائی احمد بن اسمعیل کے ہمرا ہ حج کے لیے گئے ۔حج کے بعد والدہ اور بھائی تو وطن واپس چلے آئے مگر آپ حجاز میں  حدیث پڑھنے کے لیے ٹھہر گئے۔پھر تمام علمی درسگاہوں  کا سفر کرکے ایک ہزار اَسّی شُیوخ کی خدمتوں میں  حاضری دے کر چھ لاکھ حدیثوں کو زبانی یاد کرلیا ۔آپ نے علم حدیث کی طلب میں  مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، کوفہ، بصرہ، بغداد، مصر، واسط، الجزاءر، شام، بلخ، بخارا، مَرو، ہرات، نیشاپور وغیرہ علمی مرکزوں کا بار بار سفر فرمایا۔
	آپ نے بہت سی کتابیں  تصنیف فرمائیی ہیں مگر آپ کی ’’صحیح بخاری شریف‘‘ بہت شاندار اور بلند پایہ حدیث کی کتاب ہے جو صحاح ستہ میں  سب سے بڑی اور عظیم الشان کتاب ہے۔جس کو چھ لاکھ حدیثوں میں  سے انتخاب کرکے سولہ برس کی محنت شاقَّہ اٹھاکر آپ نے تصنیف فرمایا ۔اس کتاب میں  کل حدیثیں  اگرمُکرَّرات و مُعَلَّقات و مُتابِعات کو شامل کرکے شمار کی جایئں   تو نو ہزار بیاسی حدیثیں  ہیں  اور اگر مکررات کو حذف کرکے گنتی کی جائے تو صحیح بخاری شریف کی کل حدیثوں کی تعداد صرف دوہزار سات سو اکسٹھ رہ جاتی ہے۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد نوّے ہزار ہے جنہوں  نے صحیح بخاری شریف کو بلا واسطہ خود امام بخاری سے پڑھا اور آپ کے سب سے آخری شاگرد محمد بن یوسف فِرَبری ہیں  جنہوں  نے ۳۲۰ھ؁ میں  وفات پائی۔
	امیر ِبخار اخالد بن احمد ذہلی نے اس بناء پر کہ آپ اس کے لڑکوں کو اس کے دربار میں  حدیث پڑھانے کے لیے تشریف نہیں  لے گئے آپ کوبخارا سے شہر بدر کردیا آپ بخارا سے نیشا پور چلے گئے ۔وہاں کے متکبر حاکم سے بھی آپ کی نہیں  بنی تو مجبوراً آپ ایک چھوٹے سے گاؤں خرتنگ میں  بیٹھ کر حدیثوں کا درس دینے لگے یہاں تک