Brailvi Books

منتخب حدیثیں
231 - 243
	لہٰذا اگر کسی چھوٹے عمل پر اپنے فضل ِعظیم سے وہ ثوابِ عظیم عطا فرمائیےتو یہ اس کے فضل و کرم کا جلوہ ہے۔ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ ۔
تَمَّتْ بِالْخَیْرِ
مختصر تذکرءہ مُحدِّثین
(صِحاح    سِتّہ کے مُصَنِّفِیْن اور دوسرے چند محدثین کا تعارف)
حضرت امام بخاری:آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور نام و نسب محمد بن اسمٰعیل بن ابراہیم بن مُغیرہ بن بَرْدِزْبَہ بخاری جُعْفِی ہے ۔آپ کے پر دادا ’’مغیرہ‘‘حاکم بخارا ’’یمان جعفی‘‘ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے اور چونکہ اس زمانے کا دستور تھا کہ جو شخص کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا تھا اس کی اسی قبیلہ کی طرف نسبت کیا کرتے تھے اس لیے امام بخاری کو بھی لوگ ’’جعفی‘‘کہنے لگے۔
	آپ ۱۳ شوال  ۱۹۴ھ؁ کو جمعہ کے دن بعد نماز جمعہ پیدا ہوئے اور باسٹھ برس کی عمر میں  شب شنبہ عیدالفطر کی رات میں  عشاء کی نماز کے وقت ۲۵۶ھ؁ میں  وفات پائی۔ اور’’خَرْتَنْگ‘‘نامی گاؤں میں  جوسمر قند سے دس میل کے فاصلہ پر ہے مدفون ہوئے۔
	آپ بچپن ہی میں  نابینا ہوگئے تھے مگر آپ کی والد ہ کی دعاؤں سے خدا وند تعالیٰ نے پھر آپ کو بصارت عطا فرمادی۔بچپن ہی سے حدیثوں کو یاد کرنے کا شوق تھا اور حافظہ بے حد قوی تھا دس برس کی عمر سے حدیثیں  یاد کرنے لگے یہاں تک کہ سولہ برس کی عمر میں  حضرت عبداللہ بن مبارک (شاگرد ابو حنیفہ) کی تمام کتابوں کو یاد کرڈالا۔