{۳} اس حدیث میں ’’ کَلِمَتَانِ ‘‘ سے مُراد’’ کَلَامَانِ ‘‘ہے کیونکہ لغت میں کلام کو بھی کلمہ کہتے ہیں لہٰذا اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ یہ دو کلام یعنی دو جملے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ محبوب اور پسند ہیں ، زبان پر بہت ہلکے پھلکے ہیں کیونکہ چھوٹے چھوٹے جملے ہیں مگر قیامت کے دن میزانِ عمل میں جب اعمال تو لے جایئں گے تو ان جملوں کے اجر و ثواب کا وزن بہت بھاری ہوگایعنی عمل بہت تھوڑا سا ہے مگر اس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔
{۴} بخاری شریف کی’’کتاب الدعوات‘‘میں ہے کہ ان دونوں جملوں میں سے ایک جملہ کے ثواب کا ذکر فرماتے ہوئے حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖٖ فِیْ یَوْمٍ مِاءۃَ مَرَّۃٍ حُطَّتْ خَطَایَاہُ وَاِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ(1) یعنی جو شخص دن بھر میں ایک سو مرتبہ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ پڑھ لے تو اس کے تمام گناہ (صغیرہ ) معاف کردئے جایئں گے اگرچہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔
{۵}کسی عمل پر اجر و ثواب عطا فرمانا یہ خداوند کریم کے فضل و کرم پر موقوف ہے وہ مالک بے نیاز چاہتا ہے تو تھوڑے سے عمل پر اجر ِعظیم عطا فرمادیتا ہے اوراس کے فضل و کرم کی کوئی حد نہیں ہے۔قرآن مجید میں اس کا ارشاد ہے :
ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ ﴿۴﴾ (2)
یعنی اللہ تعالیٰ اپنا فضل جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الدعوات،باب فضل التسبیح، الحدیث: ۶۴۰۵، ج۴، ص۲۱۹
2…ترجمہء کنز الایمان:یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑا فضل والا ہے۔ ( پ۲۷،ا لحدید:۲۱)