علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دو کلمے رحمن کو بہت زیادہ محبوب ہیں یہ زبان پر بہت ہی ہلکے اور میزانِ عمل میں بہت ہی بھاری ہیں (وہ دو کلمے یہ ہیں )
’’ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ ‘‘
فوا ئدومسائل:یہ صحیح بخاری شریف کی سب سے آخری حدیث ہے۔امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب کو ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیـَّاتِ‘‘ کی حدیث سے شروع فرمایا اور اس حدیث پر اپنی کتاب کو ختم فرمایا اس لیے کہ حدیثِ نیت کا تعلق دنیا سے ہے کیونکہ دنیا اعمال کا گھرہے اور اعمال کا ثواب نیت پر موقوف ہے اور اس حدیث کا تعلق آخرت سے ہے کیونکہ میزان عمل کی تول آخرت میں ہوگی۔اس میں ایک لطیف اشارہ ہوگیا کہ میزان عمل میں اسی کے اعمال کا وزن بھاری ہوگا جس کی نیت اچھی ہوگی۔
{۲} ان دونوں جملوں میں خدا کی تسبیح اور حمد کا ذکر ہے ۔علامہ کرمانی نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات دو قسم کی ہیں ۔ایک ’’صِفات ِ وُجودِیَّہ‘‘ جیسے حیات، علم، قدرت، کلام ،سمع،بصروغیرہ اِن کو ’’صِفاتُ ا لْاِکرام‘‘ کہتے ہیں ۔دوسری ’’صِفات ِ عَدَمِیَّہ‘‘ جیسے لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَامِثْلَ لَہٗ، لَافَنَا لَہٗوغیرہ اِن کو ’’صِفاتُ الْجَلال‘‘ کہتے ہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی ذاتِ اقدس کو ’’ذوالْجَلالِ وَالْاِکْرام‘‘ فرمایا ہے۔
تو ان کلمات میں ’’تسبیح‘‘سے خدا کی صِفاتُ الْجَلال کی طرف اشارہ ہے اور ’’حمد ‘‘سے صِفاتُ ا لْاِکرام کی طرف اشارہ ہے اور اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو تمام عیوب و نقاءص سے پاک جانتا اور مانتا ہوں اوراس کی تمام صفات کمالیہ کے ساتھ اس کی حمد و ثناء کرتا ہوں ۔ (1)(حواشی بخاری،ص۱۱۲۹)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حاشیۃ صحیح البخاری،ج۲،ص۱۱۲۹