کو بھی اپنے گوشۂ خیال میں آنے دے گانہ کسی کے بنتے ہوئے کام میں روڑا اٹکائے گا بلکہ وہ سب کا بھلا چاہے گااورسب کے ساتھ بھلاءی کرے گا۔جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ بھی اس کی خیر خواہی اور بھلاءی کریں گے اور و ہ بھی ہر نقصان سے محفوظ رہے گا اور ہمیشہ اس کا بھلا ہوتا رہے گا۔
{۳}علامہ کرمانی نے ’’اَلنُّصْحُ لِکُلِّ مُسْلِمٍ‘‘کی شرح میں تحریر فرمایا کہ ’’وَاَمَّا النَّصِیْحَۃُ لِلْعَامَّۃِ فَاِرْشَادُھُمْ اِلٰی مَصَالِحِھِمْ وَکَفُّ الْاَذیٰ عَنْہُمْ‘‘یعنی عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کا یہ مطلب ہے کہ ہر مسلمان کو اس کی مصلحتوں اور بھلاءیوں کی طرف رہنماءی کرتے رہنا اور ہر مسلمان سے ہر قسم کی تکالیف کو دور کرتے رہنا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کی ہر قسم کی نفع رسانی کرنا اور ہر مسلمان کو ہر قسم کی ضرر رسانی سے بچانا۔(1)
واللہ تعالیٰ اعلم۔
بول میں ہلکے تو ل میں بھاری
حدیث :۴۰
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہٗ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ (2)
ترجمہ:حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حاشیۃ صحیح البخاری،ج۱،ص۱۳(و فیہ ’’ قال الخطابی ‘‘ واللّٰہ تعالیٰ اعلم)
2…صحیح البخاری،کتاب التوحید،باب قول اللّٰہ تعالٰی:ونضع الموازین القسط۔۔۔الخ،
الحدیث:۷۵۶۳،ج۴،ص۶۰۰